شاہی خاندان میں اقتدار کی جنگ،محمد بن سلمان سعودی عرب کے بادشاہ بننے کے خواہشمند

معروف صحافی مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف سخت ایکشن میں ہیں،انہوں نے راستے میں بننے والی رکاؤٹوں کو ہٹا دیا ہے۔سعودی عرب میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں،یہ گرفتاریاں محمد بن سلمان کے اس آپریشن کا حصہ ہیں جو انہوں نے حال ہی میں اپنے خلاف ہونے والی سازشوں سے نمٹنے کے لیے شروع کیا۔
انہوں نے یہ گرفتاری سعودی عرب میں طاقت کے ستون پر گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے کی۔مبشر لقمان نے مزید کہا کہ سعودی شاہی خاندان میں اقتدار کی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی افواہیں سرگرم تھیں کہ شاہ سلمان وفات کے قریب ہیں،محمد بن سلمان کے اقتدار کا تختہ الٹنے والا ہے،اس کو محمد بن سلمان نے محسوس کر لیا اور فورا ایکشن لیا۔

مغرب شہزاد محمد بن نائف کوسعودی عرب کے نئے بادشاہ کے طور پر تیار کر رہی تھی۔مبشر لقمان نے مزید کہا کہ 84 سالہ شاہ سلمان کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور مزید بگڑتی جا رہی ہے۔اگر شاہ سلمان بیماڑی سے نہ لڑ سکے تو محمد بن سلمان کو بادشاہ بننے میں مشکلات ہوں گی۔ویسے بھی کہا جا رہا ہے کہ شاہ سلمان اب باتیں بھول جاتے ہیں۔محمد بن سلمان بین الاقوامی طور پر بھی طاقتور حکمران بن کر سامنے آئے ہیں۔
وہ اپنی راہ میں حائل شعبوں کو ایک ایک کر کے کنٹرول حاصل کرتے گئے۔اب چونکہ شاہ سلمان شدید بیمار ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ہی اقتدار محمد بن سلمان کے حوالے کر دیں۔اگر محمد بن سلمان شاہ سلمان کی زندگی میں بادشاہ نہ بن سکے تو سعودی عرب کا روایتی طریقہ اپنایا جائے گا۔اور محمد بن سلمان کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن نہ جیتے تو بھی ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔