ناصر مدنی پر تشدد کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا

ناصر مدنی پر تشدد کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز عالمِ دین علامہ ناصر مدنی کو پروگرام کیلئے بلا کر اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بنا یا گیا تھا،ناصر مدنی نے الزام عائد کیا کہ میرے کپڑے اتار کر ویڈیو بنائی گئی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور میڈیا پر آنے کی صورت میں شدید دھمکیاں بھی دی گئیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مولانا ناصر مدنی پر بہیمانہ تشدد کا نوٹس لیا تھا۔آئی جی پنجاب کو ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی۔تاہم اب ناصر مدنی پر تشدد کرنے والے ملزمان کو گرفتار کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔سی ایم پنجاب اپڈیٹس کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے مطابق علامہ ناصر مدنی پر تشدد کے واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے نوٹس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تشدد کے ذمہ دار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

جب کہ سینئر صحافی سلیم صافی نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک اور شرمناک ہے۔ابتدائی اور غیر حتمی معلومات کے مطابق مولانا صاحب کو مخالف پیر کے مریدوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیکھتے ہیں دیگر پیران کرام اپنے پیٹی بند بھائی کی کتنی اور کیسی مذمت کرتے ہیں؟

واضح رہے کہ گذشتہ روز ناصر مدنی نے اردوپوائنٹ کے اینکرپرسن فرخ شہباز وڑائچ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ‘مجھے ایک شخص نے لندن سے وٹس ایپ پر کال کی اور کہا کہ میں آپکا چاہنے والا ہوں میں اپنا بندہ بھیجتا ہوں آپ کھاریاں آئیں اور میرے ہوٹل اجوہ ہوٹل میں پروگرام کریں۔

ناصر مدنی کا کہنا تھا کہ میں نے کہا کہ پروگرامز پر کورونا کی وجہ سے پابندی ہے تو اس نے کہا کہ آپ بس دعا کروا دیں جس کے بعد میں کھاریا ہوٹل میں گیا جہاں مجھے کھانے کھلایا گیا اور پھر وہ شخص اپنے گھر لے گیا اور وہاں 10 سے 15 مسلحہ لوگ آگئے اور انہوں نے بندوقیں تان کر مجھے ایک کمرے میں بند کر کے میرے کپڑے اتروا کر تشدد کیا گیا، انہوں نے سفید کاغذ پر دستخط کروائے گئے اور ویڈیو بھی بنائی۔