خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو رہا کردیاگیا

مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کوڈسٹرکٹ جیل لاہورسے رہا کردیاگیا ہے.واضح رہے کہ منگل کے روز سپریم کورٹ نے پیرا گون ہاﺅسنگ اسکیم کے نیب کیس میں لاہور ہائی کورٹ کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 30، 30 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض خواجہ برادران کی ضمانت منظور کر لی تھی.عدالت کا کہنا تھا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے، نیب کے پاس ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کرانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے خواجہ برادران کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ نیب کا اصل ہدف صرف سعد رفیق اور سلمان رفیق کے خلاف ریفرنس بنانا تھا.جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کہ نیب کی نیت خراب ہے یا اہلیت کا فقدان ہے، دونوں ہی صورتِ حال میں معاملہ انتہائی سنگین ہے، نیب کے پاس ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کرانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے.17 مارچ کو سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت بعد ازگرفتار کی درخواستوں کی سماعت کی تھی جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی.خواجہ برادران کے وکیل امجد پرویز نے مو¿قف اختیار کیا تھا کہ ہم نے کبھی دستاویزات فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا جبکہ 6 ماہ کی گرفتاری کے بعد ریفرنس فائل کیا گیاخواجہ برداران کبھی بھی نیب کی طلبی پر غیر حاضر نہیں ہوئے.انہوں نے کہا تھا کہ کیس میں 122 گواہ مقرر کیے گئے لیکن صرف 5 گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے پانچواں گواہ بھی وہ شخص ہے جس نے وعدہ معاف گواہ کا بیان ریکارڈ کیا.وکیل کا کہنا تھا کہ خواجہ سعد رفیق سابق وفاقی وزیر جبکہ خواجہ سلمان رفیق سابق صوبائی وزیر ہیں اور اس وقت رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔

ان کی گرفتاری کو16 ماہ گزر چکے ہیں جبکہ دونوں اراکین کے حلقے کی عوام اپنے نمائندوں کے میسر ہونے سے محروم ہیں.خواجہ برادران کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ 7 ہزار 200 کنال کی زمین خواجہ برادران کی تھی جبکہ پیراگون سوسائٹی کی کمپنیاں مختلف تھیںنیب کا الزام ہے کہ لوگوں کو الاٹمنٹ نہیں دی گئی اور 68 افراد کو پلاٹ نہ دینے کا الزام عائد کیا گیا.انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ پیراگون نے 68 میں سے 62 افراد کے معاملات ٹھیک کر دیے تھے جنہیں نیب نے نوٹس بھی بھیجا اور انہوں نے بتایا کہ معاملہ نیب کی وجہ سے حل نہیں ہوا.