سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدارت پاکستان کے حوالے کرنے کی تقریب کورونا وائرس کے باعث سے ملتوی

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کی صدارت کا منصب پاکستان کے حوالے کرنے کیلئے مارچ کے آخری ہفتے میں یہاں منعقد ہونے والی تقریب کورونا وائرس کی وجہ سے ملتوی کردی گئی ہے۔ سارک چیمبر کے آئندہ صدر افتخار علی ملک پاکستان کے تجربہ کار تاجر رہنما ہیں جو 1990ء سے اس ایوان سے وابستہ ہیں، وہ مسلسل آٹھ مرتبہ اس کے نائب صدر رہے اور اس وقت سینئر نائب صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔
سارک چیمبر کے سبکدوش ہونے والے صدر روان ایدیرے سنگھے کا تعلق سری لنکا سے ہے۔ افتخار علی ملک نے جمعرات کو تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سارک چیمبر کی صدارت پاکستان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہوگا لیکن کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والے غیرمعمولی حالات کی وجہ سے یہ تقریب ملتوی کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کورونا وائرس بہت بڑا خطرہ ہے، یہ وبا پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے تاہم یہ بات سارک خطے کے عوام کے لئے خوش آئند ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک اس پھیلائو کو روکنے کیلئے مشترکہ تعاون اور کوششوں کیلئے پر عزم ہیں۔

انہوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاحق خدشات سے نمٹنے کیلئے چھ ماہ کی طویل مدتی معاشی اور معاشرتی حکمت عملی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا اب تک یورپ اور مشرقی ایشیا کے مقابلے میں کورونا وائرس سے نسبتا کم متاثر ہوا ہے لیکن صحت عامہ کی دیکھ بھال کے ناکافی نظام ، مناسب ڈھانچے کی عدم موجودگی اور حفظان صحت کے فقدان کی وجہ سے سارک خطے میں بسنے والی دنیا کی 20 فیصد آبادی کو ایک بڑے خطرے کا خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک نئے عزم اور جذبے کے ساتھ دنیا کے لئے مثال قائم کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور صحت مند کرہ ارض کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ انسانی زندگی کو لاحق اس مہلک خطرے سے نمٹا جا سکے۔ افتخار ملک نے ملکی معیشت پر کورونا وائرس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے پر وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس ضمن میں حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں تمام ہوائی اڈوں پر خصوصی ڈیسک کے قیام کو یقینی بنایا جائے جہاں اچھی سہولیات سے آراستہ میڈیکل ٹیمیں ہمہ وقت موجود ہوں اور تمام مشتبہ مسافروں کی مکمل جانچ کی جائے جبکہ تمام ریجنز میں معیاری آئیسولیشن یونٹس کے قیام ، ذاتی حفاظتی سامان کی وافر فراہمی اور مکمل طور پر لیس بائیو سیفٹی لیول تھری لیبارٹریوں جیسے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔