پنجاب میں کورونا مریضوں کی تعداد 78ہوگئی

پنجاب میں کورونا مریضوں کی تعداد 78ہوگئی ہے ، میوہسپتال میں زیرعلاج 4 مریض تیزی سے صحتیاب ہورہے ہیں، پنجاب میں 384 افراد کے ٹیسٹ کرچکے ہیں۔ وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ پنجاب میں حال ہی میں جن افراد کے ٹیسٹ کیے ہیں ان میں سے نئے کیسز کوشامل کرکے کل مریضوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے۔
80 فیصد مریض پیناڈول کھانے سے بہتر ہوجاتے ہیں۔ ملتان میں مریضوں کا نیا کیمپ بنایا ہے، جہاں تفتان سے آئے مریضوں کو رکھا جائے گا، وہاں 1500 مریضوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ابھی تک جن زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان میں تصدیق شدہ لوگوں کو الگ کردیا گیا ہے۔ جو لوگ ٹھیک ہیں ان کو بھی قرنطینہ میں14دن گزارنا لازمی ہوگا۔

مستقبل کے پیش نظر مزید آئسولیشن رومز کا بندوبست کررہے ہیں۔ آئندہ دنوں زائرین اور طلباء ملا کر 5 ہزار لوگ پاکستان آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیسٹ کی قیمت 7900 روپے ہے۔ پنجاب میں سامنے آنے والے تمام کیسز نے بیرون ملک کا سفر کیا ہوا ہے۔ پنجاب حکومت بالکل مفت ٹیسٹ کررہی ہے۔ ہم نے اپنی کٹس شوکت خانم ہسپتال کو دی ہوئی ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال مفت ٹیسٹ کررہا ہے۔
پنجاب حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل استعمال کررہی ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ کیئر نے کہا کہ کورونا وائرس ایمرجنسی کے لیے پنجاب نے217 ملین روپے کا حفاظتی سامان خرید لیا ہے۔ اس سامان کی مختص236 ملین رقم میں سے خریداری کی گئی۔ 160ملین کے گاؤنز، 20 ملین کےاین 95 ماسک، 9.3 ملین کے گلوز خریدے گئے۔1.1ملین کے سرجیکل ماسک،8.4 ملین کی عینکیں، 4.46 ملین کے شو کور خریدے گئے۔
2.9 ملین کی فیس شیلڈ،1.2ملین کے ایگزامینیشن گلوز، 4.84 ملین کے سرجیکل گلوز خریدے۔ اب تک47 ملین کی سپلائی موصول ہوچکی ہے۔ دیگر سامان آئندہ ہفتے موصول ہوجائے گا۔ جن ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے وارڈز ہیں وہاں سپلائی کی کوئی قلت نہیں۔ ہسپتالوں میں کورونا وائرس حفاظتی سامان وافرتعداد میں موجود ہے۔ دوسری جانب کورونا وائرس کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ انہوں نے ایک بریفنگ کے بعد سوال کیا تھا کہ کورونا وائرس کاٹتا کیسے ہے؟ لیکن اب پنجاب حکومت کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایسے الفاظ کا استعمال کبھی نہیں کیا۔
حکومت پنجاب کی جانب سے ان کے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے اور تردید کر دی ہے۔