سندھ حکومت کا کراچی کو تین دن کیلئے لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ سندھ نے عوام کو آئندہ 3 دن کیلئے آئسولیشن میں جانے کی اپیل کردی، عوام آئندہ دنوں کیلئے اپنے گھروں میں آئسولیشن میں رہیں،کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لوگوں کا گھروں میں رہنا سب کیلئے ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ سندھ بھر کے عوام آج سے خود کو آئسولیشن میں لے جائیں۔
عوام خود کو تین دن تک آئسولیشن میں رکھیں۔ کیونکہ عوام کا تین دن کیلئے گھروں میں رہنا ہی سب کیلئے ضروری ہے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات اور وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ کے شہری کرونا وائرس کی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، اگر معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھا گیا تو لاک ڈاؤن کی طرف جائیں گے جس سے عوام کو زیادہ مسائل پیش آسکتے ہیں۔

خصوصی گفتگوکرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سندھ بھر میں کورونا وائرس کے 238 مریض ہیں، جن میں سکھر کے 151 مریض بھی شامل ہیں۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ کورونا وائرس کے 86 مریض کراچی سے، جبکہ ایک حیدر آباد سے رپورٹ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی کے 2 مریض اور حیدر آباد سے تعلق رکھنے والا ایک مریض صحت یاب ہو گیا ہے۔صوبائی وزیر نے کہاکہ عوام سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ورنہ لاک ڈائون کی طرف جائیں گے۔
ہمارے سامنے چین اور اٹلی کی مثالیں موجود ہیں، چین نے وبا آتے ہی شہروں کو لاک ڈائون کیا جس کے بعد وائرس پرکنٹرول کیا گیا، اسی طرح اٹلی کی حکومت نے اپنی عوام کو بھی بتایا مگر وہاں کے لوگوں نے معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھا جس کی وجہ سے صورت حال خراب ہوئی۔ اگر ہم نے اقدامات نہ کیے تو چیزیں ہاتھ سے نکل جائیں گی، ہم نے صوبے کے تعلیمی ادارے بند کیے تو لوگوں نے تفریح مقامات کا رخ کرلیا، میرے بس میں ہو تو شہریوں کوزبردستی گھروں میں بندکردوں۔
صوبائی وزیر نے کہاکہ سعودی عرب سے ایک خاتون شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچیں، جس کے بعد اس گھر کے 12 افراد وائرس سے متاثر ہوئے، کراچی میں13 مارچ کو پہلامریض آیاجس کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں تھی۔سعید غنی نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اگر لاک ڈائون کیا گیا تو شہریوں کو تکلیف ہوگی تاہم اگر یہی فیصلہ دو ماہ بعد کیا گیا تو عوام کو 100 گناہ زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔