کرونا وائرس نے پاکستان کی کمزور معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے: میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی حالت پہلے ہی پتلی تھی جبکہ کرونا وائرس نے اس پر کاری ضرب لگائی ہے۔ دنیا بھر میں مرکزی بینک شرح سودکو ریکارڈ حد تک کم کر رہے ہیں جبکہ حکومتیں معاشی بحالی کے لئے بھاری پیکیج دے رہی ہیں مگر پاکستان میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔
کے الیکٹرک نے کراچی کے صنعتی شعبہ پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ان سے انڈسٹریل سپورٹ پیکیج ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 5ارب روپے اضافی مانگ لئے ہیں جس سے صنعتی شعبہ دیوالیہ ہو جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان اس کا فوری نوٹس لیں۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ کراچی پاکستان کا دل ہے جو کروڑوں لوگوں کا پیٹ پال رہا ہے۔

ملک کی نصف برآمدات اور 54 فیصد براہ راست ٹیکس کراچی سے آتا ہے جبکہ لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے جن پر رحم کیا جائے۔

کراچی کی صنعتی برادری پہلے سے ہی مختلف وجوہات کی وجہ سے پریشان ہے، جولائی 2019 سے دسمبر2019 تک کے ادا شدہ بلوں پر اضافی اربوں روپے کی ڈیمانڈ زیادتی ہے۔انھوں نے کہا کہ جو بل ادا کئے جا چکے ہیں اور جو پیداوار فروخت کی جا چکی ہے اس پر اضافی پیسہ مانگنا آئین ،قانون اور تمام تجارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اس لئے وزیر اعظم عمران خان اس معاملہ میں فوری مداخلت کرتے ہوئے اصلاح احوال کریں۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ عالمی کساد بازاری کی وجہ سے دنیا بھر میں مصنوعات کی طلب کم ہو رہی ہے۔ ان حالات میں کاروبار جاری رکھنا اور برآمدات کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے ۔ صنعتی شعبہ کی سرپرستی کے بجائے اسے مختلف حیلے بہانوں سے نچوڑنے کی پالیسی سے یہ دیوالیہ ہو جائے گا جبکہ لاکھوں افراد بھی بے روزگار ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ چمن اور طورخم بارڈر سے امپورٹ اور ایکسپورٹ کئی ہفتے سے بند ہے جس سے دو طرفہ تجارت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستانی اور افغان درآمد و برآمد کنندگان کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے جبکہ دونوں ممالک میں کئی اشیاء کی کمی واقع ہو گئی ہے۔دونوں ممالک کو چاہئے کہ کنٹینروں پر ضروری سپرے وغیرہ کر کے انھیں سرحد پار کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ کاروباری برادری اور عوام کی مشکلات میں کمی آئے۔