وزیراعظم کا کورونا کے باعث امریکا سے ایران پر پابندیاں ہٹانےکا مطالبہ

وزیراعظم عمران خان نے امریکا سے ایران پر پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کردیا، انہوں نے کہا کہ کورونا کے انجام تک ایران پر سے پابندیاں ہٹالی جائیں۔ ایرانی عوام کو ناقابل بیان مصائب کا سامنا ہے، کیونکہ بندشیں ایران کی مدافعتی کاوشوں کو منفی اندازمیں متاثرکررہی ہیں۔
انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ میں انسانی بنیادوں پر صدر ٹرمپ سے التماس کرتا ہوں کہ کورونا کے انجام تک ایران پر سے پابندیاں ہٹالی جائیں۔ ایرانی عوام کو ناقابل بیان مصائب کا سامنا ہے۔ کیونکہ بندشیں کورونا کیخلاف ایران کی مدافعتی کاوشوں کو نہایت منفی اندازمیں متاثرکررہی ہیں۔

اس وباء سے نمٹنے کیلئے انسانیت کا یکجا ہونا ناگزیر ہے۔ اسی طرح وزیراعظم نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا کہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ عوام آگے بڑھیں اور اپنے ہم وطنوں کو کرونا جیسی آفت سے محفوظ بنانے کی تحریک میں ہمارا ہاتھ بٹاتے ہوئے کسی حکومتی فرمان کا انتظار کئے بغیر ہی اپنے آپ کو ازخود گھروں تک محدود رکھیں اور رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی راہ اختیار کریں کیونکہ ’’جو محدود ہے۔
۔وہ محفوظ ہے‘‘ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں ایک بار پھر ملک کو لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے حالات یورپ ،امریکہ اور چین کی طرح ہوتے تو پورا پاکستان لاک ڈاؤن کردیتا،عوام خود کو قرنطینہ کرلیں ،25 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ، کورونا کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ غریبوں کا ہے، اناج کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہمارے پاس بہت ذخیرہ ہے ، کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہمیں افراتفری سے ہے،سب اگر گھروں میں سامان جمع کرنا شروع کردیں گے تو ہمارے معاشرے کو نقصان ہوگا،میں اور میری پوری ٹیم کی توجہ کورونا وائرس پر ہے، میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے افرا تفری پھیلانے سے گریز کرے، عوام اپنی حکومت پر اعتماد کرے ہم مشکل وقت سے نکل جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پورا لاک ڈاؤن کا مطلب ہے کہ ملک میں کرفیو لگانا ہے ، کرفیو کا مطلب ہے کہ شہریوں کو گھروں میں بند کر کے پولیس اورفوج کے ذریعے پہرہ دینا ہے تاکہ لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں لیکن ہمارا مسئلہ ہے کہ پچیس فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ دو وقت کی روٹی نہیں کھاسکتے ہیں ۔