چین سے امدادی سامان کا ایک اور جہاز پاکستان پہنچ گیا

چین سے امدادی سامان کا ایک اور جہاز پاکستان پہنچ گیا۔ امدادی سامان چین کے شہر ووہان سے بھیجا گیا۔ چینی سفیر نے سامان چیئرمین این ڈی ایم اے کے حوالے کیا۔ تفصیلات کے مطابق مشکل وقت میں چین ایک مرتبہ پھر پاکستان کے بھرپور تعاون کے لیے پہنچ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چین سے امدادی سامان کا ایک اور جہاز اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ چین کے شہر ووہان سے آنے والے خصوصی جہاز میں 6 ٹن کے قریب امدادی سامان موجود ہے۔ سامان میں 5 وینٹی لیٹرز، ماسک اور دیگر طبی سامان شامل ہے۔ چین نے یہ امدادی سامان کورونا سے نمٹنے کے لیے بھیجا ہے۔ اسلام آباد میں چینی سفیر نے امدادی سامان چیئرمین این ڈی ایم اے کے حوالے کیا۔

گزشتہ کل بھی چین سے 8 رکنی طبی ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیم امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچی تھی۔

سامان میں کورونا کی تشخیص کی 1 لاکھ پانچ ہزار سے زائد کٹس، 20 لاکھ سے زائد ماسک، 77 ہزار میڈیکل کور اور وینٹیلیٹرز بھیجے گئے تھے۔ چین حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے حکومت پاکستان کی پہلے بھی مدد کی گئی تھی جس کے بعد آج 60 ٹن امدادی سامان پر مشتمل ایک اور جہاز پاکستان پہنچ گیا ہے۔ چین نے پاکستان سے اپنی دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے کورونا وائرس کے مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا تھا جس کو پورا کرتے ہوئے چین ترجیحی بنیادوں پر پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔
اس ضمن میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین کورونا وائرس کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی ترجیحی بنیادوں پر مدد کر رہا ہے جو کہ پاکستان اور چین دوستی کی عظیم مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین صحت کے عملے کو محفوظ رکھنے، ٹیسٹ کٹس اور وینٹی لیٹرز فراہم کر رہا ہے، چین کو دوسرے ممالک سے بھی وینٹی لیٹرز کے آرڈرز ہیں لیکن وہ ترجیحی بنیادوں پر پاکستان کو وینٹی لیٹرز فراہم کر رہا ہے جس پر ہم اس کے مشکور ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے مشکل وقت میں چین کا ساتھ دیا تھا اسی طرح اب چین بھی کورونا وائرس کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ چین سے پاکستانی طلبہ کو واپس نہ لانے پر حکومت پر کڑی تنقید کی گئی لیکن آج لوگ فیصلے کی تائید کر رہے ہیں، اب بھی حکومت صورت حال کو دیکھ کر فیصلے کر رہی ہے، ہماری کوشش ہے کہ متوازن ماحول رکھا جائے تاکہ لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔