روس میں کورونا وائرس کے 500 کیسزسامنے آنے کے بعد ماسکو میں لاک ڈاﺅن

روس میں کورونا وائرس کے ایک ہی دن میں نئے 500 کیسز سامنے آنے کے بعد دارالحکومت ماسکو سمیت کئی علاقوں میں لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی جب کہ وبا سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کے لیے سزا بھی متعین کردی گئی.روس میں 31 مارچ کی صبح تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2337 تک جا پہنچی تھی جب کہ وہاں 17 ہلاکتیں بھی ہو چکی تھیں کورونا کے پھیلنے کے باوجود روس میں دیگر ممالک کی طرح لاک ڈاﺅن کا نفاذ نہیں کیا گیا تھا جب کہ 30 مارچ کو بھی صدر ولادی میر پیوٹن نے اپنے خطاب میں عوام کو بتایا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے حالات قابو میں ہیں.

تاہم ولادی میر پیوٹن کے خطاب کے بعد رات دیر گئے روسی حکام نے تصدیق کی کہ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نئے 500 کیسز سامنے آئے روس میں ایک ہی دن میں ریکارڈ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد دارالحکومت ماسکو سمیت کئی علاقوں کی مقامی حکومت نے لاک ڈاﺅن نافذ کرتے ہوئے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا حکم دیا.رپورٹ کے مطابق ماسکو کی مقامی حکومت نے لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کردی جب کہ صرف ان ہی افراد کو گھروں سے نکلنے کی اجازت دی گئی جو عوامی معاملات کی ملازمتیں کرتے ہیں.رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماسکو کی مقامی حکومت نے شہریوں کو قریبی سبزی فروش اور اشیائے خردونوش کے دکانوں تک جانے کی اجازت دے رکھی ہے، تاہم شہریوں کو ضروری کام کے بعد واپس اپنے گھروں تک محدود رہنے کا حکم دیا گیا ہے ماسکو کی شہری حکومت کی جانب سے شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کے احکامات کے مطابق روس کے دیگر 27 علاقوں نے بھی شہریوں پر پابندیاں عائد کردیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا حکم دیا گیا.روس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا میں متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد نوجوان بتائے جا رہے ہیں اور ان کی عمریں 18 سے 40 سال کے درمیان ہیں روسی حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ حکومت تقریبا 20 لاکھ ایسے افراد کا علاج کر رہی ہے جن میں کورونا جیسی علامات ہیں تاہم ان میں کورونا کی تشخیص نہیں ہوئی. روس کے نشریاتی ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاﺅ کے باوجود مکمل طور پر ملک بھر میں لاک ڈاﺅن یا پابندیوں کا نفاذ نہیں کیا گیا البتہ روس کے نصف علاقوں میں لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں رپورٹ میں بتایا گیا کہ رشین فیڈریشن کی کم سے کم 30 کے قریب ریاستوں یا علاقوں میں پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا حکم دیا گیا ہے.کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاو¿ کے بعد روسی حکام نے انتہائی سخت قوانین بھی متعارف کرائے ہیں اور قرنطینہ میں نہ رہنے والے افراد پر 3800 امریکی ڈالر تک کے جرمانے کے قوانین کا نفاذ کر دیا ہے روس کے ایوان زیریں نے کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں تک محدود نہ رہنے والے افراد پر جرمانوں کی منظوری دے دی ہے اور قرنطینہ میں نہ رہنے والے افراد پر 191 امریکی ڈالر سے لے کر 3800 امریکی ڈالر تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکے گا.رپورٹ کے مطابق عام شہری پر قرنطینہ توڑنے کے الزام میں 191 سے لے کر 510 امریکی ڈالر جب کہ سرکاری عہدیداروں پر 638 سے لے کر 1918 امریکی ڈالر جب کہ قانون سازوں اور اعلیٰ عہدیداروں پر 2550 سے لے کر 3800 امریکی ڈالر یا اس سے زائد کا جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، علاوہ ازیں ایسے افراد کو 30 تک جیل کی سزا بھی سنائے جا سکتی ہے.روسی ایوان نے کورونا وائرس سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلانے کے حوالے سے بھی سخت سزائیں مقرر کرتے ہوئے 5 سال قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا کے قوانین بھی بنادیے دی ماسکو ٹائمز کے مطابق روس کی پارلیمینٹ نے کورونا وائرس سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلانے والے شخص کے لیے 5 سال جیل اور 25 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 40 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا کا قانون منظور کرلیا.