سعودی عرب میں کورونا وائرس کے 110 نئے کیسز سامنے آگئے

سعودی عرب میں کورونا وائرس کے 110 نئے کیسز سامنے آگئے ہیں۔ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مملک میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 1563 ہوگئی ہے جبکہ قرنطینہ میں رکھے گئے 400 افراد کو کلیئر قرار دیدیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں نئے 110کیسز سامنے آئے ہیں اور مزید ٹیسٹس کیے جارہے ہیں۔ وزارتِ صحت نے مزید بتایا ہے کہ مملکت میں 50 افراد صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے ہیں جس کے بعد صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 165ہوگئی ہے۔
حکومت کورونا پر قابو پانے کیلئے اقدامات کررہی ہے تاہم ابھی تک کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب میں بیرون ملک سے آئے 400 افراد کو قرنطینہ سے کلیئر قرار دے کر گھروں کو بھیج دیا گیا۔

سعودی گزٹ کے مطابق ایئرپورٹس پر آئے سینکڑوں افراد کو جدہ میں 14 دن تک قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ جن میں سے 400 افراد کو گزشتہ روز کورونا وائرس سے کلیئر قرار دے کر انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ان تمام افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ جدہ میں قرنطینہ سے نکلنے والے پہلے گروپ کے واپس جاتے وقت وزارت صحت کے عہدے داروں کی جانب سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ان افراد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور انہیں تحائف بھی دیئے گئے۔قرنطینہ سے نکلنے والے ان افراد کا کہنا تھا کہ انہیں قرنطینہ میں بہترین سہولتیں دی گئیں، انہیں کسی بھی موقع پر ایسا احساس نہیں ہوا کہ وہ کسی ہسپتال جیسے مقام پر ہے۔
ایئر پورٹس سے لے کر قرنطینہ میں قیام اور وہاں سے واپسی پر ان کے ساتھ عزت اور احترام والا سلوک ہوا۔ کسی نے بھی انہیں مشتبہ مریض ہونے کے اندیشے پر اچھوتوں والا برتاؤ نہیں کیا۔واضح رہے کہ سعودی مملکت میں 14 روز قبل بیرون ملک سے آنے والے سعودی شہریوں کو کرونا کے خطرے کے پیش نظر قرنطینہ منتقل کیا گیا تھا۔یہ شہری ان ممالک سے واپس آئے تھے جہاں پر کورونا نے وبا کی صورت اختیار کر رکھی تھی۔
اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں خون عطیہ کرنے والوں کے لیے ہوم سروس شروع کردی گئی ہے۔ سعودی عرب میں کورونا وائرس کی وجہ سے خون عطیہ کرنے ہسپتال یا بلڈ بینک نہیں جانا پڑے گا، موبائل یونٹ خون کا عطیہ لینے کے لیے لوگوں کے گھروں پر پہنچیں گے۔ وزارت صحت کے بلڈ بینک کی جانب سے خون کا عطیہ دینے والوں کو ہوم سروس کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، بلڈ ڈونرز کو بلڈ ڈونیٹنگ سینٹر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ صرف ایک کال یا واٹس ایپ میسج پر موبائل یونٹ ان کی رہائش پر پہنچ جائے گا۔