کورونا سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی.اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی حالات سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور اس نقصان سے نمٹنے کے لئے 25 کھرب ڈالر تک کے معاون پیکیج کی ضرورت ہوگی.گزشتہ روز جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان، ارجنٹائن اور سب صحارا افریقی ممالک کو ’خوفناک امتزاج‘ کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں قرضوں کے اضافے شامل ہیں جس کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے پر تباہ کن اثرات بھی رونما ہوں گے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشتیں اعلی سرمایے کے بہاﺅ سے بری طرح متاثر ہوں گی، اشیاءکی گرتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے برآمدات کے منافع میں کمی ہوگی، جس کا مجموعی اثر 2008 کے بحران سے کہیں زیادہ خراب ہوگا.رپورٹ کی نگرانی کرنے والے یو این سی ٹی اے ڈی کے ترقیاتی حکمت عملی کے ڈائریکٹر رچرڈ کوزول رائٹ نے کہا کہ یہ واقعی بہت خراب ہو گا.انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کو اس قسم کی تجاویز کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس سے ہم پہلے ہی سے ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے دیکھ سکتے ہیں اور جو بدتر ہوں گے کوزول رائٹ نے تخمینہ لگایا کہ اس سال اور اگلے سال میں کورونا وائرس 20 سے30 کھرب ڈالر کے مالی خسارے کا سبب بنے گا.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اس سال معاشی بحران کا سامنا کرنے کے لیے 25 کھرن ڈالر کے امدادی پیکیج کی ضرورت ہوگی مطلوبہ اقدامات میں 10 کھرب ڈالر کا لیکویڈیٹی انجیکشن اور 01 کھرب ڈالر کا قرض سے نجات پیکیج شامل ہوگا اور ہنگامی صحت سروسز اور متعلقہ پروگراموں کے لیے حکومت کے کنٹرول میں بالترتیب مزید 50 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی.ترقی پذیر ممالک کو کووڈ – 19 کا جھٹکا کے عنوان سے جاری رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پہلے تخمینے سے ملتے جلتے ہیں.