اقوام متحدہ نےغریب ممالک کے لیے عالمی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا

اقوام متحدہ نے کورونا وبا کے پیش نظر غریب ممالک کے لیے عالمی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کورونا کے تباہ کن سماجی و معاشی اثرات کو دور کرنے کے منصوبے کا آغازکردیا منصوبے میں کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے عالمی فنڈ قائم کیا جائے گا.
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کوویڈ 19 اقوام متحدہ کی تشکیل کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا امتحان ہے، کورونا وائرس معاشروں اور لوگوں کی زندگیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے معیشت پر طویل مدتی اثرات ہوں گے جنہیں حل کرنے کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا. اقوام متحدہ کے مطابق سیکرٹری جنرل نے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لئے رسپانس اینڈ ریکوری فنڈ قائم کیا ہے، جس سے بحران کی شکار حکومتوں کو تیزی سے مدد فراہم کرنے اور ان کی بحالی میں مدد کی جائے گی.
قبل ازیں کورونا کے ممکنہ اقتصادی و سماجی اثرات کے بارے میںرپورٹ کے اجراءکے موقع پر انتونیو گوتیرس نے کہا کہ دنیا کو کورونا کی شکل میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی امتحان کا سامنا ہے انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں دنیا ایسی کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے جس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کورونا کی وبا سماج کے مرکز پر حملہ کر رہی ہے اور لوگوں کی جانیں اور ان کا روزگار چھین رہی ہے.
انہوں نے کہا کووڈ-19 وہ سب سے بڑا امتحان ہے جس کا ہمیں اقوامِ متحدہ کے قیام کے بعد سے سامنا ہے انتونیو گوتیرس نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ ترقی پذیر اور غریب ممالک کی مدد کریں ورنہ اس وبا کے جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کا خدشہ ہے. اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اندازہ ہے اس وبا کے اثرات کی وجہ سے دنیا میں اڑھائی کروڑ افراد بےروزگار ہو جائیں گے.
ادھر کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتوں کو دھچکا لگا ہے اور اس سے امریکہ اور جاپان جیسی دنیا کی مضبوط ترین معیشتیں بھی محفوظ نہیں رہ سکی ہیں حکومتیں اپنی اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے امداد پیکجز کا اعلان کر رہی ہیں مگر سٹاک مارکیٹس پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان امدادی پیکجز سے معیشت کے مختلف شعبوں کے خدشات دور نہیں ہوئے ہیں.
جاپان میں آج ایک انتہائی اہمیت کا حامل اقتصادی اشاریہ جاری ہوا ہے یہ اشاریہ جاپان کی بڑی پیداواری کمپنیوں مثلاً کاریں اور برقی آلات بنانے والی کمپنیوں کے معیشت پر بھروسے کی پیمائش کرتا ہے. اور رواں سال اس اشاریے کے اعداد و شمار سات سال کی بدترین سطح پر ہیں دوسری جانب معیشت کو سہارا دینے کے لیے حکومت نے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جس میں خاندانوں اور چھوٹی کمپنیوں کو نقد رقم کی فراہمی تک شامل ہے.
ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر معاشی مشکلات کو ٹالنا ممکن نہیں جبکہ ایشیا کے کئی ممالک سمیت دنیا بھر میں دو کروڑ 40 لاکھ لوگ غربت سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گے. کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے انڈیا میں لاک ڈاﺅن نافذ ہے لیکن اب مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کووڈ 19 کے متاثرین کی تعداد میں ایک دن کے دوران سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.
چین کے بعد یورپ اور پھر امریکہ کورونا وائرس کا مرکز بن گیا لیکن یورپ میں اب بھی اس عالمی وبا کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اٹلی اور سپین سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ہیں جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران قرنطینہ سے غیر ضروری طور پر باہر نکلنے پر قید بھی ہوسکتی ہے. چین نے بدھ سے کورونا وائرس کے اپنے سرکاری اعداد و شمار میں ا±ن وائرس متاثرین کو بھی شامل کرنا شروع کیا ہے جن میں وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہو رہی ہیں حکام کا کہنا ہے کہ ایسے تمام افراد کو 14 دن کے لیے قرنطینے میں رکھا جائے گا۔