ورلڈ بینک نے داسو ہائیڈرو پاور کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دیدی

ورلڈ بینک بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بدھ کے روز داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی اضافی فنانسنگ کی منظوری دے دی جس سے پاکستان کو لاکھوں صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی کے لیے کم لاگت، قابل تجدید توانائی پیدا کرنے میں مدد ملے گی. عالمی بینک کے اسلام آباد میں دفتر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی بینک کی طویل المدتی ترقی کے لیے یہ تعاون ایسے وقت میں سانے آیا جب بینک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کے پھیلنے کے فوری چیلنج کی تیاری اور اس پر رد عمل دینے کے لیے بھی کام کر رہا ہے.

اضافی فنڈز داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے پہلے مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے ٹرانسمیشن لائن کی مالی اعانت فراہم کریں گے جو دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ 2 ہزار 160 میگاواٹ صلاحیت پیدا کرے گی دوسرے مرحلے کی توسیع کے منصوبے سے یہ گنجائش دوگنی ہو کر 4 ہزار 320 میگاواٹ ہوجائے گی جس سے داسو ملک کا سب سے بڑا پن بجلی گھر بن جائے گا. پاکستان کے لئے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایلنگو پیٹچاموتو نے کہا کہ پاکستان کا توانائی کا شعبے اعلی قیمت اور غیر فعال ایندھنوں سے کم لاگت اور قابل تجدید توانائی کی طرف نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے.
انہوں نے کہا کہ ٹیرف کے اسٹرکچر میں اصلاحات کے ساتھ، داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے نتیجے میں ایندھن کی کم درآمد ہوگی جس سے ملک کے موجودہ اکاﺅنٹ خسارے پر تناﺅ کم ہوگا اس منصوبے سے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی لاگت کو کم کرنے میں مدد ملے گی جس سے لاکھوں بجلی استعمال کرنے والے گھروں اور پیداواری شعبوں جیسے مینوفیکچرنگ اور زراعت کے لیے بجلی کو مزید سستی فراہم ہوگی داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ گرمیوں کے مہینوں جب طلب زیادہ ہوگی تو زیادہ بجلی فراہم کرے گا.