امریکی بحریہ نے ”روزویلٹ“سے اہلکاروں کو نکالنا شروع کردیا

امریکی بحریہ نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ”روزویلٹ“ نامی بحری بیڑے سے اہلکاروں کو نکالنا شروع کردیا ہے بیڑے کے کپتان نے کرونا وائرس کی وبا سے اہلکاروں کی جان خطرے میں ہونے سے متعلق پینٹاگون کو خط لکھا تھا. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق روزویلٹ نامی بحری بیڑہ امریکہ کے زیر انتظام جزیرے گوام کے قریب موجود ہے امریکی بحریہ کے مطابق بیڑے پر 4800 افراد کا عملہ تعینات ہے.
بیڑے سے اب تک ایک ہزار اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 93 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے پینٹاگون کے حکام نے کہا ہے کہ ”روزویلٹ“ کے عملے کے لیے فوری طور پر ہوٹلوں میں کمروں کا انتظام کر رہے ہیں جبکہ صحت مند اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا تاکہ وہ معمول کے کام جاری رکھ سکیں. امریکی بحریہ میں میریانا ریجن کے کمانڈر ریئر ایڈمرل جان مینونی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ ”روزویلٹ“ پر موجود زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکال رہے ہیں لیکن کچھ اہلکاروں کو بحری بیڑے پر تعینات رکھنا ہو گا تاکہ معمول کے کام انجام دیے جا سکیں.
ادھر واشنگٹن میں امریکہ کے قائم مقام سیکرٹری برائے بحریہ تھامس موڈلی نے کہا ہے کہ بحری بیڑے پر تعینات عملے میں سے ایک ہزار کے قریب اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جب کہ آئندہ دو روز میں یہ تعداد 2700 ہو جائے گی انہوں نے عندیہ دیا کہ تقریباً ایک ہزار اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا اور بحری بیڑے کو کرونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے جراثیم کش ادویات کا اسپرے بھی کیا جائے گا.
تھامس موڈلی سے جب بار بار یہ پوچھا گیا کہ کیا خط لکھنے پر ”روزویلٹ“ کے کپتان بریٹ کروزیئر کو سزا دی جائے گی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا کہ اس خط کو میڈیا میں کس نے لیک کیا انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس کے ذمہ دار ہیں تو یہ عمل نظم و ضبط کے اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ کون ذمہ دار ہے. انہوں نے کہا کہ روزویلٹ کے کپتان نے وہ خط اپنے اعلیٰ حکام کو لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس پر ردعمل دیا جائے خیال رہے کہ امریکہ کے بحری بیڑے ”روزویلٹ“ کے کپتان نے محکمہ دفاع پینٹاگون کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ کرونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

اس لیے فوری طور پر ان کی مدد کی جائے.

کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا تھا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے کرونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث 4000 اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے. ایک امریکی جریدے نے منگل کو بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا تھا خط کے متن کے مطابق کپتان بریٹ کروزیئر نے کہا تھا کہ ہم حالت جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں بیڑے پر موجود فوجی اپنی جانیں دیں.
انہوں نے کہا تھا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے پینٹاگون کے مطابق اب تک محکمہ دفاع کے 1400 ملازمین اور کانٹریکٹرز وغیرہ کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں 771 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں. تاہم تھامس موڈلی کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ میں روزویلٹ وہ واحد بیڑا ہے جس کے اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اس کے علاوہ 93 مزید بیڑے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں جو اس وبا سے محفوظ ہیں.
ادھر امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج سماجی دوری اور سینیٹائزیشن کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے” روزویلٹ“ پر تعینات کچھ اہلکاروں اور دنیا بھر میں پھیلنے والی یہ وبا امریکی فوج کی جنگی صلاحتیوں کو متاثر نہیں کر سکتی.