کراچی،نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران پولیس اور عوام کے درمیان جھڑپ

کراچی کے علاقے لیاقت آباد نمبر 8 کی غوثیہ مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران پولیس اور عوام کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سندھ میں آج بروز جمعہ دن بارہ بجے سے ساڑھے تین بجے تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس دوران کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں مسجد کی بیسمنٹ میں جمعہ کی نماز پڑھائی گئی۔پولیس کے روکنے پر عوام مشتعل ہوگئی۔جنہوں نے پولیس اہلکاروں پر تشدد بھی کیا۔بتایا گیا ہے کہ لیاقت آباد میں واقع ایک مسجد کی بیسمنٹ میں بڑی تعداد میں نمازیوں نے نماز جمعہ ادا کرنے کی کوشش کی جس پر علاقہ پولیس نے انہیں روکا تو مشتعل افراد نے پولیس اہلکاروں کو تشدد بنایا۔

لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے پر پیش امام کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ پیش امام نے پابندی کے باوجود نماز جمعہ کی امامت کی تھی۔امامت سے پولیس کے روکنے پر لوگوں کو اکسایا گیا۔جنہوں نے دو پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کہ پولیس اہلکاروں کو ان کے تشدد سے بچانے کے لئے ایک شہری نے اپنے گھر میں پناہ دی۔
واقعے کے بعد کراچی میں پولیس نے مسجد کے خطیب سمیت 4 افراد کو دفعہ 144 کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق اہلکار حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر مسجد کے خطیب کو گرفتار کرنے پہنچے تو خطیب نے علاقہ مکینوں کو اکٹھا کر لیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔واضح رہے کہ سندھ کی طرح دیگر صوبوں میں بھی نماز جمعہ کے اجتماعات کو محدود کردیا گیا تھا۔
حکومتِ سندھ کی جانب سے عالمی سطح پر پھیلنے والی وبا کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے جمعہ کوصوبے بھرمیں12 بجے دوپہر سے ساڑھے 3 بجے تک ساڑھے 3 گھنٹے کا مکمل لاک ڈائون کیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے پر درجنوں شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا۔مساجد اور پولیس کی جانب سے نمازِ جمعہ گھروں پر ادا کرنے کی ہدایت پر اکثر شہری گھروں تک ہی محدود رہے، کراچی میں تین گھنٹے کے نام لاک ڈائون میں ڈاکٹروں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائدکردی گئی تھی جبکہ کراچی کی بیشتر مساجد میں خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ کی لائوڈ اسپیکر پر ادائیگی پولیس سادہ لباس اہلکاروں کی مداخلت پر رکوادی گئی۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کوکراچی، حیدر آباد، نواب شاہ، سکھر، نوشہرو فیروز، گھوٹکی اور لاڑکانہ سمیت صوبے بھر میں12 بجنے سے پہلے ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک نظر آئے۔