دنیا میں ہرسال 36لاکھ انسانوں کو مارنے والے 3 امراض

دنیا بھر میں ہر سال36لاکھ سے زائد افرادتین امراض ٹی بی‘ یرقان اور ایڈزسے متاثر ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ دنیا کو خوف میں مبتلا رکھے ہوئے کورونا وائرس سے اب تک دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 17 لاکھ اور ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں. امریکا کے وبائی امراض کے ادارے سی ڈی سی کے مطابق امریکا میں ہرسال اوسطا 35ہزار شہری Influenza ”وبائی نزلہ زکام“سے ہلاک ہوجاتے ہیں امریکا کے ہی سرکاری ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ہر سال موسمی نزلہ وزکام سے دنیا کی کل آبادی کا 9فیصد یعنی 67کروڑ کے قریب اس سے متاثر ہوتا ہے جبکہ شرح اموات 3سے5لاکھ سالانہ ہے.

ان اعدادوشمار کو سامنے رکھیں تو ہر سال وبائی نزلہ زکام سے 67کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوتے ہیں اور 3سے 5لاکھ تک مرجاتے ہیں مگر آج تک ان اعدادوشمار پر کبھی بحث ہوئی نہ پوری دنیا میں اتنی بڑی مہم چلائی گئی اور نہ ہی دنیا کو لاک ڈاﺅن کیا گیا . پوری دنیا میں کمزور مدافعتی نظام والے افراد ‘چھوٹے بچے اوربزرگ یہ ”وبائی زکام “کا آسان نشانہ بنتے ہیں 2017 اور 2018 میں پوری دنیا میں فلو سے 80 ہزار اموات ہوئیں کیونکہ یہ تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے .
وبائی نزلہ زکام اور ٹی بی کا پھیلاﺅ کورونا وائرس جیسا ہی ہے یعنی مریض کے کھانسنے‘چھینکنے‘مریض کی استعمال شدہ چیزوں کو استعمال کرنے اس کے قریب رہنے‘ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے وبائی نزلہ زکام اور ٹی بی کے جرثومے صحت مند افراد میں منتقل ہوسکتے ہیں. اب ہرسال36لاکھ سے زائد زگیاں نگلنے والے تین امراض ٹی بی‘یرقان اور ایڈز کے اعداد وشمار کا جائزہ لیتے ہیں امریکی ادارے یوایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق جون 2019میں ایچ آئی وی(ایڈز) کے مریضوں کی تعداد24.5ملین تھی جبکہ 2018میں یہ مرض 7لاکھ70ہزار انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار گیا 2010میں ایچ آئی وی سے مرنے والوں کی تعداد8لاکھ60ہزار تھی.
تپ دق یعنی ٹی بی کے بارے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او)کی سال2019کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹی بی سے ایک سال کے دوران دنیا بھر میں15لاکھ اموات ہوئیں اور ایک کروڑ سے زائدمریض سامنے آئے جبکہ 4لاکھ 84ہزارمریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ مرض لاحق ہوا. عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس، دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی آٹھویں سب سے بڑی وجہ ہے اس بیماری کے باعث سالانہ تقریبا14لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ہیپاٹائٹس کا مرض بنیادی طور پر سوزش جگر کہلاتا ہے جس کی پانچ اقسام ہیں یعنی اے، بی، سی ، ڈی اور ای ہیں‘ ہیپاٹائٹس بی اور سی کو ’خاموش قاتل‘ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ ان بیماریوں کا مریض کو عموماً اس وقت ہی علم ہوتا ہے جب یا تو وہ ان کے ٹیسٹ کروا لے یا پھر اس کا جگر خطرناک حد تک خراب ہو جائے.
ایک محتاط اندازے کے مطابق کرّہ ارض کی کل آبادی کے ایک تہائی افراد میں ٹی بی کے جراثیم پائے جاتے ہیں، لیکن متاثرہ ہونے والوں کی تعداد سالانہ ایک کروڑ تک ہے صرف پاکستان میں سالانہ تقریباً5لاکھ افراد ٹی بی کے مرض کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سے 70 ہزارکے قریب لقمہ اجل بھی بن جاتے ہیں. یہ خردبینی جرثوما اپنے وجود میں نہایت سخت جان ہے،جو انتہائی تیزی سے تقسیم در تقسیم ہو کر لاکھوں،کروڑوں کی تعداد میں پھلنے پھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ تپ دق کے جراثیم کا اصل ہدف نظامِ تنفّس ہے، یہ جراثیم سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوکر افزایش کرتے ہیں مگر بعض اوقات خون کے ذریعے پورے جسم میں بھی پھیل جاتے ہیں.
سائنس دانوں نے اس جرثومے کی جزئیات، فطرت و ہئیت وغیرہ کے حوالے سے مزید تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ جرثوما سلاخ نما جوڑے کی شکل میں زندہ رہتا ہے اور اگر ایک بار سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوجائے، تو برسوں زندہ رہنے کے باوجود بے ضرر ہی رہتا ہے. کئی ممالک میں دہائیوں پرانی قبروں سے برآمد ہڈیوں میں بھی ٹی بی کے ایکٹیو جرثومے پائے گئے ہیں یہ بھی کمزور قوت مدافعت والوں کو اپنا شکار بناتا ہے‘عام طور پرٹی بی سے متاثرہ فرد کے پھیپھڑوں میں موجود جراثیم تقسیم در تقسیم ہو کر ان گنت تعداد میں کھانسنے،چیخنے، چلانے یا چھینک سے ہوا میں پھیل جاتے ہیں.
اس دوران اگر یہ کسی صحت مند فرد کے پھیپھڑوں میں سانس لینے کے ساتھ داخل ہوجائیں،تووہاں باریک باریک جھلّیوں میں پرورش پانے لگتے ہیں کہ پھیپھڑوں کا درجہ حرارت، نمی اورصحت مند خلیے اس کی نشوونما کے لیے مرغوب غذا کا کام دیتے ہیں. یہ جرثومہ سالوں تک جسم میں فعال رہتا ہے اور قوت مدافعت کمزور پڑ جانے یا کسی اور بیماری کی صورت میں یہ فعال ہوجاتا ہے ‘یوں تو ٹی بی90 فی صد پھیپھڑوں یا نظامِ تنفّس کی بیماری ہے، لیکن بعض اوقات یہ لمف گلینڈز، تولیدی اعضاء،دماغ، ہڈیوں، جوڑوں،جگر، گردے،مثانے ،نظامِ ہضم اور جلد تک کو متاثر کرتا ہے اس وقت دنیا بَھر میں تقریباً5لاکھ مریض ملٹی ڈرگ ریزیسٹینٹ ٹی بی کا شکار ہیںجبکہ پاکستان میں ان مریضوں کی تعداد 35ہزار کے لگ بھگ ہے.
ہیپاٹائٹس کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے یہ مرض سے دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی آٹھویں سب سے بڑی وجہ ہے اس بیماری کے باعث سالانہ 14لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیںعالمی ادارہ ِ صحت کی گلوبل ہیپاٹائٹس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی تعداد 25 کروڑ 75 لاکھ سے بھی متجاوز ہو چکی ہے جو دنیا کی آبادی کا 3.5 فیصد ہے اور ہیپاٹائٹس Cسے متاثرہ مریضوں کی تعداد 07 کروڑ 10 لاکھ ہے جو کہ دنیا کی آبادی کا ایک فیصد ہے.
دنیا میں اِس وقت 32 کروڑ 80 لاکھ افراد مختلف طرح کے ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں ہر سال 17 لاکھ 50 ہزار ہیپاٹائٹس سی کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاںروزانہ 111 سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی اور سی کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، پاکستان میں دونوں بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے جن میں سے اکثریت کو اپنی بیماری سے متعلق علم ہی نہیں.
پاکستان ہیپاٹائٹس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں ٹی بی، ڈینگی، ملیریا اور ایڈز کے نتیجے میں ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہیں عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 7 کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی کے موذی مرض میں مبتلاہیں جن میں سے 10 فیصد یا 71 لاکھ افراد پاکستان میں پائے جاتے ہیں. عالمی ادارہ صحت کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 3 کروڑ 25 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں اس اعتبار سے ہیپاٹائٹس بی اور سی اس وقت دنیا بَھر میں صحت عامہ کا بہت بڑا مسئلہ ہیں مگر آج تک اس جان لیوا مرض کے لیے کورونا جیسی عالمگیر ابلاغی مہم نہیں چلائی گئی.
اسی طرح ایچ آئی وی ”ہیومن امیونوڈیفیشنسی وائرس“کا مخفف ہے یہ وائرس جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے جس کے باعث متاثرہ جسم کو عام طرح کی انفیکشن کا مقابلہ کرنے میں دشواری ہونے لگتی ہے اور وہ شدید بیمار ہو جاتا ہے. یہ وائرس بھی انسان سے انسانوں حتی کہ جانوروں اور پھر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے40سال سے زیادہ عرصہ قبل جب ایڈز پہلی بار شناخت ہوئی تھی تو اس وقت وہ گویا ایک سزائے موت تصور کی جاتی تھی.
عالمی ادارہ صحت اس پر بھی ہر سال دنیا بھر میں ایڈز کا عالمی دن منا کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرلیتا ہے امریکی صدر ٹرمپ کے موجود مشیر صحت ڈاکٹر انتھونی فاﺅچی ایڈز پر ریسرچ کرنے والی عالمی ٹیم کا بھی حصہ رہے ہیں انہوں نے ایچ آئی وی کے علاج کی دوا تیار کرنے کے لیے کام کیا اس دوائی سے ایڈزکا خاتمہ تو ممکن نہیں ہوسکا البتہ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وائرس کو مریض سے کسی دوسرے جاندار میں منتقل ہونے سے روکتی ہے.
کورونا وائرس نے دنیا کو دو سے تین ماہ کے اندر ہی بدل کر رکھ دیا ہے اور ایک نئی اصطلاح کو جنم دیا ہے”کورونا سے پہلے کی دنیا اور کورونا کے بعد کی دنیا“یہ اسی طرح کی اصطلاح ہے جو نائن الیون کے بعد سامنے آئی تھی دنیا میں گردش کرتی سازشی تھوریاں کس حد تک سچ ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر اتنی بڑی عالمیگر مہم اور مشکوک اعدادوشمار نے لوگوں کو سازشی تھوریوں کی جانب راغب کرنے پر مجبور ضرور کیا ہے.
کورونا کے باعث لاک ڈاﺅن سے نہ صرف کھربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے بلکہ دنیا کے کئی ممالک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں اسی طرح ماضی قریب کی تاریخ میں بیروزگاری کی سب سے بڑی شرح پوری دنیا میں دیکھی جارہی ہے. (اس تحقیق کے لیے تمام اعدادوشمار عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)‘سی ڈی سی‘جان ہوپکنز‘یونسیف‘یوایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور یو ایس ایڈ سے لیے گئے ہیں)

کیٹاگری میں : صحت