سندھ کی تعریف ہوئی تووزیراعظم کو آگ لگ گئی، قمرزمان کائرہ

پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تعریف ہوئی تووزیراعظم کو آگ لگ گئی،آج پاکستان کے مزاج والا بندہ امریکی صدر ہے، وہ بھی اپنی غلطیاں کوتاہیاں ماننے کی بجائے گورنرز سے لڑ پڑا ہے،جب ملک کا وزیراعظم ہنگاموں، انارکی اور احتجاج کی بات کرے گا، تو پھر صوبے کی کون بات سنے گا؟انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ وفاقی اقدامات جن میں کورونا فنڈ اچھا قدام ہے، حکومت 12ہزار فی خاندان کو دے رہی ہے، ہم اس کی تعریف کررہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اچھے الفاظ میں وزیراعظم کی تعریف کی۔اسی طرح وزیر اعلیٰ سندھ خود اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کررہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہ ہو، لیکن وزیراعظم سندھ حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

سندھ کی تعریف ہوئی تووزیراعظم کو آگ لگ گئی، پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی تعریف کی ، سندھ کی تعریف کرتے کچھ ہوتا تھا؟وزیراعظم اور کابینہ جو کررہی ہے وہ سیاست ہے۔

وزیراعظم نے پہلے خطاب میں کہا کہ لاک ڈاؤن نے ہونا چاہیے، جبکہ سندھ حکومت لاک ڈاؤن کی پوزیشن لے چکی تھی۔لاک ڈاؤن کرنے والے بھی قوم کے خادم ہیں۔سندھ کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخواہ نے لاک ڈاؤن کیا۔ہم نے جس پیٹرن کو فالو کررہے ہیں، پوری دنیا میں وہی پیٹرن استعمال ہوا اور وباء پر کنٹرول کیا گیا۔ جن ممالک میں مرکزی حکومت اور وزیر اعظم کا فارمولا استعمال ہوا، وہاں وباء پھیل گئی۔
جو صورتحال آج پاکستان میں ہے، اسی مزاج والا بندہ امریکی صدر ہے۔وہ یہی کام کررہا ہے، وہ بھی اپنی غلطیاں کوتاہیاں ماننے کی بجائے گورنرز سے لڑ پڑا ہے، یہاں وزیراعظم سندھ حکومت کے پیچھے پڑ ے ہوئے ہیں۔یہ فاشسٹ مزاج ہے۔ قوم سے خطاب میں کہا لاک ڈاؤن نہیں کرنا، سندھ نے لاک ڈاؤن کیا، بعد میں پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں لاک ڈاؤن ہوا۔پھر وزیراعظم نے کہا کہ جزوی لاک ڈاؤن ہونا چاہیے جبکہ کرفیو نہیں ہونا چاہیے۔
پھربلوچستان کی تعریف کی، جبکہ سندھ کے بارے ایک الفاظ ادا نہیں کیا، زبان نہیں گھس جاتی۔انہوں نے کہاکہ تازہ ڈیٹا جو ہے اس کے تحت 54فیصد کیسز لوکل ٹرانسمیشن ہے۔ یعنی مقامی سطح پر پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔لیکن اس پر وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ اگر لاک ڈاؤن ہوا، تو ہنگامے ہوں گے، انارکی پھیلے گی، لوگ باہر نکل آئیں گے۔بھئی یہ باتیں معلومات کی بنیاد پر بند کمروں کی گفتگو ہوتی ہے، اگر ملک کاوزیراعظم قوم سے خطاب میں یہ باتیں کرے گا تو پھرصوبائی حکومتوں کی بات کون مانے گا؟پھر علماء ، تاجر،یا لوگ کیوں توجہ دیں گے؟ اس میں شک نہیں ہے کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔
ڈی جی خان، اور ملتان میں جن لوگوں کو رکھا وہاں وائرس نے تباہی پھیلا دی، ڈاکٹرز متاثر ہوئے ہیں۔ہم نے کہا کہ آپ نے وقت پر فیصلے نہیں۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں جب وباء پھیلی تو ہم نے پہلے ہفتے میں کہاکہ خدارا راشن سپلائی کام مشکل ہے، اس میں لوگوں کا حتجاج رہے گا۔پہلے ہی ملک میں 25فیصد لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ ایک پلیٹ فارم ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، پھر حکومت کو یہی کرنا پڑا۔