سندھ میں2400 سے زائد تبلیغی ارکان کے کورونا ٹیسٹ منفی آگئے

سندھ میں2400 سے زائد تبلیغی ارکان کے کورونا ٹیسٹ منفی آگئے، سندھ حکومت نے 2889 تبلیغی ارکان کے ٹیسٹ کیے، جن میں437 کے مثبت اور2452 ارکان کے منفی ٹیسٹ آئے ہیں، ان تبلیغی ارکان کو قرنطینہ میں رکھا ہوا تھا۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں مختلف اضلاع میں رکھے گئے 2452 تبلیغی ارکان کے کورونا ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
محکمہ صحت سندھ نے2889 تبلیغی ارکان کے ٹیسٹ کیے تھے جن میں437 کے مثبت آئے ہیں۔ ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کے ان تمام افراد کو پہلے14 روز قرنطینہ میں بھی رکھا گیا تھا۔ ایسے لوگ جن کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں ان کو ہیلتھ ایڈوائزری کے تحت گھروں کو بھیج دیا جائے گا، اسی طرح ان افراد کو متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے کورونا کلیئر سرٹیفیکٹ بھی دیا جائےگا۔

بتایا گیا ہے کہ جن افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں ان کو بھی ایس اوپیز پر عمل کرتے ہوئے چودہ دن تک گھروں میں رہنا ہوگا۔ مزید برآں سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے مزید کہا کہ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے شہری لاک ڈائون میں ہمارا ساتھ دیں، ایس او پیز کے تحت لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کرائیں گے۔
کورونا وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے، دنیا بھر میں لاک ڈائون کر کے اور سماجی فاصلے رکھ کر کورونا پر قابو پایا گیا۔ ترجمان سندھ حکومت نے ایک بار پھر اپیل کی کہ لوگ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اسی طرح پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے طبی اور نیم طبی عملے کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہونے لگا ۔ وفاقی حکام کے مطابق ملک بھر میں اس وقت طبی اور نیم طبی عملے کے 180 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں جن میں سے 90 ڈاکٹر بھی ہیں۔
ملک کے مختلف ہسپتالوں کے 60 سے زیادہ پیرامیڈکس اور دیگر عملہ کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے جن میں سے اب تک 30 نرسز میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے ۔حکام نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11 ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ، پاکستان میں گزشتہ 2 ماہ میں 2 ڈاکٹر اور ایک نرس وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔وفاقی حکام کے مطابق 16 اپریل تک سندھ میں 45، پنجاب 44، خیبر پختونخوا 39، اسلام آباد 15، بلوچستان 20، آزاد کشمیر 4 اور گلگت بلتستان میں 2 طبی اور نیم طبی عملے کے افراد وائرس کا شکار ہوئے تھے، اس متاثرہ طبی عملے کی اکثریت یا تو اسپتالوں میں زیر علاج ہے یا انہیں گھروں پر آئسولیٹ کردیا گیا ہے۔