کورونا کی آڑ میں مودی سرکار مسلمانوں پر ظلم کررہی، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی آڑ میں مودی سرکار مسلمانوں پر ظلم کررہی، مودی حکومت کی پر تشدد کارروائیوں سے بھارت میں مسلمان بھوک میں مبتلا ہیں، مودی کے اقدامات ہندوتوا اورمتعصبانہ سوچ کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کورونا وائرس کی آڑ میں مودی حکومت جان بوجھ کرمسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مودی حکومت کی پرتشدد کارروائیوں سے بھارت میں مسلمان بھوک میں مبتلا ہیں۔

مودی کے اقدامات ویسے ہی ہیں جیسے جرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کیخلاف کیا تھا۔

موجودہ اقدامات مودی حکومت کی ہندوتوا اورمتعصبانہ سوچ کا ثبوت ہیں۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے جمعہ کو شوپیاں میں شہید کیے گئے نوجوانوں عاشق احمد ماگرے اور آصف احمد ڈار کی میتیں مناسب طریقے سے تدفین کیلئے ان کے ہلخانہ کے حوالے نہ کرنے پر بھارتی حکام کی مذمت کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہا کہ بھارت کورونا وائرس کی وبا کے بہانے کشمیری شہداء کی بے حرمتی اور ان کے اہل خانہ کی تذلیل کررہا ہے۔ سیدعلی گیلانی نے کہا کہ بھارت کشمیری شہداء کی تجہیز وتکفین سے بھی خوفزدہ ہے اور یہ ڈر وخوف اس بات کی علامت ہے کہ کشمیری عوام اور قابض بھارت کے درمیان لڑائی آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری عالمی قانون کی سخت خلاف ورزی کا نوٹس لے ۔
انہوںنے پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ یہ معاملہ تمام عالمی فورموں پر اٹھائے۔ تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے شہید عاشق احمد اور شہید آصف احمد کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید نوجوان کشمیر یوں کے حقیقی ہیرو ہیں ۔انہوںنے شہید نوجوانوںکی میتیں انکے لواحقین کے حوالے نہ کرنے پر قابض انتظامیہ کی مذمت کی۔
جموںوکشمیر یوتھ فورم کے چیئرمین عمر عادل ڈار نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت اپنے غیر قانونی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کو تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھنے سے نہیں روک سکتا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے غنڈوں کی طرف سے کشمیریوں پر حملوں میں اضافے کے بعد بھارت میںان کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ہزار سے زائد حریت رہنمائوں کو صرف سزا دینے کے لئے غیر محفوظ ماحول میں بھارتی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں نئی ہلی کی تہاڑ جیل کا خصوصی طورپر ذکر کیاگیا ہے جہاں کشمیری نظربندوں کو قاتلوں ، منشیات کے اسمگلروں اور ہندو انتہا پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے دیگر خطرناک مجرموں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔