متحدہ عرب امارات میں کورونا کے 484نئے کیسز سامنے آگئے، مزید 2مریض جان کی بازی ہارگئے

متحدہ عرب امارات میں کورونا کے 484نئے کیسز سامنے آگئے، مزید 2مریض جان کی بازی ہارگئے، تفصیلات کے مطابق مملکت میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 7ہزار 265ہوگئی ہے جبکہ مجموعی طور پر 43افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اماراتی وزارتِ صحت نے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مملکت میں کورونا کے 74مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو چکے گئے ہیں جس کے بعد صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 1360ہوگئی ہے۔
ملک میں کورونا کے 5ہزار 862ایکٹو کیسز موجود ہیں جن میں سے 1مریض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں اس بار کورونا وائرس کی وبا کے باعث لوگ مساجد میں اجتماعی نمازیں ادا نہیں کر پائیں گے، کیونکہ ممتاز علماء کے فتوؤں اور حکومتی احکامات کے باعث مساجد میں نماز اور تراویح کی ادائیگی پر پابندی ہو گی۔

متحدہ عرب امارات کے وفاقی ادارہ برائے سرکاری افرادی قوت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران تمام سرکاری دفاتر و محکموں میں پانچ گھنٹے کام ہو گا۔

اتوار کے روز جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ تمام وزارتوں اور وفاقی محکموں میں اوقات کار صبح 9 بجے سے لے کر دوپہر 2 بجے تک ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے ابھی نجی شعبے کے لیے اوقاتِ کار کا اعلان نہیں کیا گیا، جو آج یا کل تک کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب امارات کی وزارت برائے خارجہ امور و بین الاقوامی تعاون کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دِنوں میں اب تک 22,900 غیر مُلکیوں کو زمینی راستوں اور پروازوں کے ذریعے اُن کے وطن بھجوایا جا چکا ہے۔
جبکہ اگلے چند روز میں مزید 27آپریشنز کے ذریعے ہزاروں تارکین کو ان کے وطن بھیج دیا جائے گا۔ وزارت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایمریٹس ایئر لائنز کے ذریعے اب تک 5,185 غیر مُلکیوں کو ان کے وطن بھیج دیا گیا ہے۔ اس صورتِ حال میں 14ممالک نے اماراتی حکومت کے تارکین کے وطن واپسی کے منصوبے میں بھرپور تعاون کیا ہے، اُن میں کینیڈا، امریکا، کولمبیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، الجیریا، فلپائن، رُوس، افغانستان، سُوڈان، یوکرائن، بوسنیا ہرزیگوینااور انڈونیشیا شامل ہیں۔ اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے فوری انتظامات کرنے والوں کی اس فہرست میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک شامل نہیں ہیں۔