عمر اکمل کو پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت ایک سال کی سزا ملنے کا امکان

سپاٹ فکسنگ الزامات کا سامنا کرنے والے ٹیسٹ بیٹسمین عمر اکمل کو پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ پر ایک سال کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ان کی اگلے سال فروری سے قبل کرکٹ فیلڈ میں واپسی کا امکان نہیں ہے۔ انہیں دو پیشکشوں کی پاداش میں چھ چھ ماہ کی دو سزائیں ہوں گی۔ پی سی بی کے تفتیش کاروں کے مطابق پی ایس ایل 5 کے آغاز سے قبل 19اور 20فروری کی درمیانی شب جب عمر اکمل کو جاسوسی کے نیٹ ورک کے ذریعے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو اس سے قبل وہ کراچی میں مسلسل مشکوک لوگوں سے مل رہے تھے، وہ اس بات پر حیران ہیں۔
اس دوران عمر اکمل کو دو پیشکش ہوئیں اور انہوں نے دونوں کو رپورٹ نہیں کیا تاہم انہیں کوئی فرنچائز منتخب کرتی ہے تو پی ایس ایل سکس میں شرکت کرسکیں گے۔

وہ لوگ جو عمر اکمل کو بے قصور ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے ان کے لئے یہ الزامات ہوش اڑا دینے کے لئے کافی ہیں۔ عمر اکمل پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انہیں2015ء کے ورلڈ کپ میں بھارتی سٹے بازوں نے پیشکش کی تھی جو انہوں نے رپورٹ نہیں کی تھی۔

چند ماہ قبل انہوں نے سابق ٹیسٹ بیٹسمین منصور اختر پر انہیں کینیڈین لیگ میں سپاٹ فکسنگ کی پیشکش کا الزام لگایا تھا۔ پی سی بی نے پی ایس ایل شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے عمر اکمل کو ٹھوس شواہد کی بناء پر معطل کردیا تھا۔ یہ شواہد اب چیئرمین ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان کے سامنے رکھے جائیں گے۔ کیس کی سماعت 27اپریل کو ہوگی۔ عمر اکمل نے اینٹی کرپشن ٹربیونل میں سماعت کے لیے درخواست نہیں کی تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ الزامات کو تسلیم کررہے ہیں۔ اس کا فائدہ ملتے ہوئے وہ بڑی سزا سے بچ جائیں گے۔