75 ارب روپے کا ریلیف پیکیج کاروباری برادری کی بہتری کیلئے حکومت کی کاوشوں کا عکاس ہے، صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد احمد وحید نے کہا ہے کہ حکومت نے چھوٹے کاروباری اداروں کیلئے 75 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے جو ایک خوش آئند اقدام ہے اور تاجر برادری اس کا خیرمقدم کرتی ہے، موجودہ مشکل حالات میں اس ریلیف پیکیج کا اعلان حکومت کی ان کاوشوں کا عکاس ہے جو وہ کاروباری برادری کی بہتری کیلئے کر رہی ہے، ریلیف پیکیج سے ملک کے تقریباً 35 لاکھ چھوٹے کاروباری ادارے مستفید ہو سکیں گے جن سے ان کی مشکلات میں کمی ہو گی اور کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔
پیر کو اپنے ایک بیان میں محمد احمد وحید نے کہا کہ حکومت نے چھوٹے کاروباری اداروں کو مئی، جون اور جولائی کیلئے بجلی کے بلوں میں بھی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے جو ایک مثبت فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلہ کے مطابق 5KW کنکشن والے کاروبار اور 70KW کنکشن والے صنعتی اداروں کو تین ماہ کا بل نہیں دینا پڑے گا جس سے 95 فیصد کمرشل اور 80 فیصد صنعتی کنکشنز کو فائدہ ہو گا اور ان کاروباری اداروں کی مشکلات کم ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگلے مرحلے میں کاروباری اداروں کو بلاسود اور بلاضمانت قرضے فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے جو کافی حوصلہ افزاء ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے تمام کاروباری اداروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان کو جلد بلاسود اور بلاضمانت قرضے فراہم کرنے پر غور کرے تاکہ وہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں سہولت محسوس کریں۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں کاروباری اداروں کو ریلیف فراہم کرنے کا ایک بہتر طریقہ پالیسی ریٹ اور سیلز ٹیکس میں مزید کمی کرنا ہے انہوں نے تجویز دی کہ حکومت پالیسی انٹرسٹ ریٹ اور سیلز ٹیکس کو مزید کم کرکے کم از کم 5 فیصد تک لانے کی کوشش کرے جس سے کاروباری کی لاگت میں نمایاں کمی ہو گی اور مہنگائی کم ہونے سے عوام کو بھی کافی ریلیف ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں تاجر برادری حکومت کے ہر اچھے اقدام کی بھرپور حمایت کرتی ہے کیونکہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر ہی معیشت کو مسائل سے نکال کر بہتری کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کاروباری اداروں کیلئے اگلے مرحلے کے پیکیج کا اعلان کرے تاکہ باہمی مشاورت اور متفقہ فیصلوں سے معیشت کو جلد مشکلات سے نکال کر بحالی و ترقی کی راہوں پر ڈالا جا سکے۔