سعودی عرب میں کورونا کے 1266نئے کیسز سامنے آگئے

سعودی عرب میں کورونا کے 1266نئے کیسز سامنے آگئے ہی جس کے بعد ملکت میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20ہزار77ہوگئی ہے۔ سعودی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مملکت میں مزید 8مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں اور اب ہونے والی اموات کی تعداد 152ہوگئی ہے۔ مملکت میں مزید 100سے زائد مریض صحتیاب ہوگئے ہیں اور اب تک صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 2ہزار 784تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک میں اس وقت 17ہزار141ایکتو کیسز موجود ہیں جن میں سے 118کی حالت تشویشناک ہے۔
مملکت میں اب تک 2لاکھ سے زائد ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید ٹیسٹس کیے جارہے ہیں۔ دوسری جانب شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا وائرس کی وجہ سے ہاؤس آئسولیشن کے سلسلے میں سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں پر عائد پابندی میں نرمی کے لیے کئی اقدامات کی منظوری دی ہے۔

جس کے تحت مملکت کے تمام علاقوں میں کرفیو جزوی طور پر اٹھالیا گیا ہے البتہ مکہ شہر اور مکمل لاک ڈاؤن والے محلوں میں کرفیو برقرار رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ شاہی فرمان کے بموجب سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو صبح 9 تا شام 5 بجے تک گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اجازت تیرہ مئی 20 رمضان تک مؤثر ہوگی۔ سعودی وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے خبردار کیا ہے کہ لوگ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ کرفیو میں نرمی اس لیے کی گئی ہے کہ سعودی عرب میں کورونا کیسز میں کمی آ رہی ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ملک میں کرفیو میں جزوی نرمی کا یہ مطلب نہیں کہ مملکت میں کرونا کی وبا کا خطرہ ٹل گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود غیرملکی اور مقامی شہری سماجی دوری کے اصولوں پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کریں اور وزارت صحت کی طرف سے وضع کردہ طریقہ کار پرعمل کریں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے مملکت میں کرفیو میں نرمی کی گئی مگر کرونا کی بیماری خطرہ بدستورموجود ہے۔