وطن واپسی پرکچھ با اثر افراد بغیر ٹیسٹ کرائے ہی گھر جانا چاہتے ہیں ،معید یوسف

معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بیرون ملک سے وطن واپس آنے والوں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہ ہے کہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے ، کچھ بااثر لوگ بغیر ٹیسٹ کرائے ہی گھر جانا چاہتے ہیں۔ صحت بہت بڑا مسئلہ ہے ، جتنے لوگ بھی بیرون ملک آئے گے ان کا ٹیسٹ کرکے مزید فیصلہ کیا جائے گا کہ قرنطینہ میں رکھنا ہے یا گھروں کوبھیجنا ہے۔
معاون خصوصی برائے صحت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ 88 ممالک میں پاکستانی موجود ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں، بیرون ملک مقیم ان پاکستانیوں میں سے 90 فیصد کا تعلق تین ممالک جن میں متحد عرب امارات، قطر اور سعودی عرب سے ہے۔ بیرون ملک پھنسے افراد کی واپسی کا فیصلہ متعلقہ ملک میں ہمارے سفیر کرتے ہیں۔

معید یوسف نے کہا کہ ہم محفوظ طریقے کو استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک پھنسے تمام پاکستان کو واپس لانا چاہتے ہیں۔

حفظان صحت کو نظر انداز کیا تو ہمارے اپنے عزیز واقارب ہمارے باعث بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ مسافر اگر اپنے خرچ پر کسی ہوٹل میں رہے یا قرنطینہ میں ان کا ٹیسٹ ہوگا، کسی کو استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ واپسی کا عمل سست اس لئے ہے کیونکہ ہمیں ان افراد کو قرنطینہ کرنے کیلئے جگہ بنانا پڑتی ہے۔ ہم ایک ساتھ تقریباََ 7 ہزار افراد کو واپس لا سکتے ہیں۔
اس تعداد کو بڑھانے کیلئے دوبارہ اجلاس منعقد کیا جار ہا ہے جس میں قرنطینہ مراکز اور صلاحیت بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے باہر جانے والے مسافروں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پی آئی اے جس ملک میں فلائیٹ آپریشن چلا رہا ہے وہاں آپ جا سکتے ہیں۔ پی آئی اے کے علاوہ قطر کی مخصوص پروازوں سے پاکستانیوں کو باہر جانے کی اجازت ہے ۔ ان خیالات کا اظہارمعاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے معاون خصوصی برائے صحت کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔