ایس او پیز کو حتمی شکل دے کر بتدریج کاروباری اداروں کو کھولا جائے، صدر اسلام آباد چیمبر

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے پورے ملک میں کاروباری ادارے بند کئے گئے تھے جس سے کروڑوں کی تعداد میں ورکرز بے روزگار ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں کاروباری ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس او پیز کو حتمی شکل دے کر بتدریج کاروباری اداروں کو کھولا جائے ۔
پیر کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے پلاننگ و ڈویلپمنٹ اسد عمر خود یہ بیان کر چکے ہیں کہ بندشوں کی وجہ سے 10 لاکھ کاروباری ادارے بند ہو سکتے ہیں جس سے ایک کروڑ 80 لاکھ افراد بے روزگار ہوں گے جبکہ سات کروڑ افراد غربت کی لکیر نے نیچے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں مرحلہ وار کاروباری ادارے کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ مزدورں کو روزگار ملے اور کاروباری طبقہ کی مشکلات کم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کنسٹرکشن انڈسٹری ابھی تک بند ہے جس وجہ سے بڑی تعداد میں مزدور طبقہ بے روزگاری کا شکار ہے جبکہ بجلی و گیس کے کمرشل بل بھی ابھی تک موخر نہیں کئے گئے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو بہت سی کارپوریٹ کمپنیاں ڈیفالٹ کر سکتی ہیں جس کے پاکستان کی معیشت پر دوررس منفی نتائج مرتب ہوں گے۔ محمد احمد وحید نے حکومت پر زور دیا کہ ایس او پیز تشکیل دے کر خاص طور پر وہ صنعتیں جن کی لیبر فیکٹریوں کے اندر ہی رہائش پذیر ہے ان کو فوری طور پر کھولنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں ایک ملاقات میں وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اسد عمر او ر وفاقی وزیر برائے انڈسٹریز محمد حماد اظہر کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جلد ہی صنعتوں اور کاروبار کو نہ کھولا گیا تو ایسا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس پر قابو پانا ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ تمام احتیاطی تدابیر اپنا کر اسلام آباد میں صنعتوں اور کاروبار کو فوری طور پر کھولنے کی اجازت دی جائے تا کہ مزدوروں کو روزگار ملے اور معیشت کا پہیہ دوبارہ چلنا شروع ہو جائے۔