حکومت کا پبلک ٹرانسپورٹ و دیگر سیکٹرز کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ کابینہ اجلاس میں پبلک ٹرانسپورٹ وہ دیگر سیکٹرز کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تمام سیکٹرز کو ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، کابینہ نے پاکستان میں تیار سینیٹائزر برآمد کرنے منظوری دی ہے۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ن لیگ کو غصہ ہے کہ نیب نے شہباز شریف کو کیوں طلب کیا ہے؟ کیا آپ قانون سے بالاتر ہیں؟ نوازشریف اربوں مالیت کے فلیٹ میں رہ رہے ہیں، نوازشریف کو مشکل حالات میں پاکستان آنا چاہیے۔
شہبازشریف واپس اس لیے آئے کہ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کرمانیٹرنگ کریں، ان کو عوام کی خدمت کرنی چاہیے۔ پہلے پاکستان میں ایک خاندان کی حکومت تھی، سارے کام اپنے خاندان کی بھلائی کے لیے کیے ہیں۔

ن لیگ نے جو بھی پراجیکٹ لگائے شریف خاندان کا مائنڈ سیٹ بنیادی طور پر بادشاہت کا ہے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کا حال ہے، پیپلزپارٹی نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگایا، سعید غنی بتائیں پیپلزپارٹی ایک صوبے تک کیوں محدود ہوکررہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں پبلک ٹرانسپورٹ وہ دیگر سیکٹرز کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تمام سیکٹرز کو ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، کابینہ نے پاکستان میں تیار سینیٹائزر برآمد کرنے منظوری دی ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کورونا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چاہتا ہوں لاک ڈاؤن ختم کیا جائے ، احتیاطی تدابیر پر سختی کرنا ہوگی۔ کاروبار تو کھل جائیں گے لیکن ساتھ میں ایس اوپیز پر عملدرآمد بھی کرانا ہوگا۔ کابینہ کے ارکان کی اکثریت نے وزیراعظم کی تجویز سے اتفاق کیا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ آئندہ دور روز میں کرلیا جائے گا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی میں کیا جائے گا۔