متحدہ عرب امارات میں کورونا کے 462، سعودی عرب میں 1595نئے کیسز سامنے آگئے

متحدہ عرب امارات میں کورونا کے 462 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مملکت میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 15ہزار192تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سعودی عرب میں بھی آج کورونا کے 1595نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 30ہزار سے تجاوز کرگئی۔ اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب میں اب تک 30ہزار251کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ مزید 9مریضوں کے جاں بحق ہونے کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 200ہوگئی ہے۔
آج سعودی عرب میں 955مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے ہیں جس کے بعد صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 5ہزار431ہوگئی ہے اور ایکٹو کیسز کی تعداد 24ہزار620ہوگئی ہے۔ سعودی عرب نے دارالحکومت الریاض میں قائم قومی صحت ہنگامی آپریشنز مرکز کو کورونا وائرس کی وبا کے خلاف جنگ میں کنٹرول روم میں تبدیل کردیا ہے اور کرونا کے تعلق سے تمام معاملات وہیں سے کنٹرول کیے جائیں گے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق یہ مرکز سعودی وزارت صحت کے ڈیزاسٹر اور کرائسس مینجمنٹ کے آپریشنز کو وضع کرنے اور ان پر عمل درآمد کا ذمے دار ہے۔اس آپریشنز مرکز کے ملازمین ہنگامی فون کالز موصول کرتے ہیں ،کیسوں کو مانیٹر کرتے ہیں ، مجوزہ کیسوں کی پیروی کرتے ہیں اور انھیں دیکھتے ہیں کہ ان میں مزیدکیا پیش رفت ہورہی ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں کورونا سے مزید 9مریض جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 146ہوگئی ہے۔
مملکت میں اب تک کورونا کے 3ہزار153مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں۔ جس کے بعد مملکت میں ایکٹو کیسز کی تعداد 11ہزار893رہ گئی ہے۔ ابو ظہبی کے سٹَیم سیل سنٹر میں ڈاکٹروں اور ریسرچرز کی ایک ٹیم نے سٹیم سیل کے ذریعے کورونا کا مرض ختم کرنے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔ اس طریقہ میں کورونا کے مریض کے ختم سے سٹیل سیلز نکالے جاتے ہیں اور پھر انہیں ایکٹیویٹ کر کے دوبارہ مریض میں منتقل کر دیئے جاتے ہیں، جس سے مریض جلد شفایاب ہو جاتا ہے۔
اس منفرد علاج کا تجربہ 73 مریضوں پر کیا گیا ہے سب کے سب شفا یاب ہوگئے. مریض کے خون سے نکالے گئے سٹیم خلیے ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچائے گئے.اس طریقہ علاج کی بدولت پھیپھڑے میں نئے خلیے پیدا ہوتے ہیں اور نئے کورونا کے وائرس کو لگنے سے روک دیتے ہیں. علاوہ ازیں مزید صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچانے سے بھی بچاتے ہیں۔