وفاقی کابینہ کا 9 مئی سے لاک ڈاؤن مزید نرمی پراتفاق کرلیا

وفاقی کابینہ نے 9 مئی سے لاک ڈاؤن میں مزیدنرمی کا مشورہ دے دیا ، لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی میں کیا جائے گا، اجلاس میں کورونا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کورونا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چاہتا ہوں لاک ڈاؤن ختم کیا جائے ، احتیاطی تدابیر پر سختی کرنا ہوگی۔ کاروبار تو کھل جائیں گے لیکن ساتھ میں ایس اوپیز پر عملدرآمد بھی کرانا ہوگا۔ کابینہ کے ارکان کی اکثریت نے وزیراعظم کی تجویز سے اتفاق کیا۔لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ آئندہ دور روز میں کرلیا جائے گا۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی میں کیا جائے گا۔

اسی طرح ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئی پی پیز کی رپورٹ پبلک اور انکوائری کمیشن قائم کرنے کے معاملے میں یہ پیشرفت سامنے آئی ہے کہ وفاقی کابینہ نے انکوائری کمیشن کا قیام 2 ماہ کیلئے مئوخر کرنے کی منظوری دے دی۔ اسی طرح 5 ہزار ارب کے مالیاتی اسکینڈل کی رپورٹ بھی پبلک کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔پاورڈویژن اور کابینہ ممبران کی مخالفت کے باعث حکومت نے فیصلہ کیا ۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رپورٹ کو پبلک کرنے کے فیصلے پر 2 ماہ بعد مزید غور کیا جائے گا۔ آئی پی پیز مالکان کے ساتھ جاری مذاکرات اور دوست ملک کی ناراضی کا سہارا لیا گیا ہے۔ خیال رہے اس سے قبل کابینہ نے 21 اپریل کو انکوائری کمیشن قائم کرنے اور رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دی تھی۔ واضح رہے سینئر تجزیہ کار عارف نظامی نے بھی اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ پاورسیکٹرز کرپشن اسکینڈل میں غیرملکی بھی ملوث ہیں، اس میں سی پیک کے کچھ گورنرز بھی شامل ہیں، اس لیے پاورسیکٹراسکینڈل کا کچھ نہیں ہونا، بس کمیشن بنا دیا جائے گا لیکن کچھ نہیں ہوگا۔