ڈاکٹر فرقان کے انتقال کا معاملہ، ڈاکٹر جگدیش غیر ذمہ داری کے مرتکب قرار

ڈاکٹر فرقان کے انتقال کے معاملے میں ڈاکٹر جگدیش غیر ذمہ داری کے مرتکب قرار دے دیئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے رپورٹ تیار کر کے وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کر دی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر فرقان کی موت وینٹی لیٹر نہ ملنے سے نہیں ہوئی، ان کو ایمبولینس سٹاف اور سول ہسپتال کے ڈاکٹرز نے بروقت طبی امداد نہیں دی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالت تشویشناک ہونے کے بعد بھی ڈاکٹر جگدیش نےمکمل علاج نہیں کیا بلکہ ڈاکٹر فرقان کو دوسرے ہسپتال ریفر کردیا۔ڈاکٹر فرقان کی وجہ بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس حوالے سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ ڈاکٹر فرقان اپنی مرضی سے ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ کی جانب سے ان تمام باتوں کی تردید کر دی گئی تھی کہ ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ڈاکٹر فرقان اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ ڈاکٹر فرقان کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جاں بحق ہو گئے تھے ۔ پاکستان میں عام شہریوں کے علاوہ اب ڈاکٹر بھی کورونا وائرس کا شکار ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کے بعد صورتحال کے مزید کشیدہ ہونے کا خطرہ موجود ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹروں کی جانب سے بھی مختلف مقامات پر حکومت نے مطالبات کئے گئے ہیں کہ انہیں حفاظتی سامان فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں پر لاک ڈاؤن کو مزید سخت کر دیا جائے۔
اس حوالے سے مختلف احتجاج بھی سامنے آئے لیکن ان کا نتیجہ ابھی تک نہ نکل سکا ۔ یہی وجہ ہے کہ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اب پاکستانی ڈاکٹر بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن اب ایک ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے ہی ایک اور ڈاکٹر کے انتقال کاواقع پیش آیا ہے جس میں ڈاکٹر جگدیش غیر ذمہ داری کے مرتکب قرار دے دیئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے رپورٹ تیار کر کے وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کر دی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر فرقان کی موت وینٹی لیٹر نہ ملنے سے نہیں ہوئی، ان کو ایمبولینس سٹاف اور سول ہسپتال کے ڈاکٹرز نے بروقت طبی امداد نہیں دی