وزیراعظم کی اپنی وزارت صحت میں کروڑوں کی کرپشن ہوگئی، احسن اقبال

مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی اپنی وزارت صحت میں کروڑوں کی کرپشن ہوگئی، کیا یہ محب وطن لوگ ہیں، بھارت کشمیر میں خون بہا رہا ہے، یہ بھارت سے ادویات درآمد کررہے ہیں، وزیراعظم نے کورونا کی ویکسین دریافت کرلی ہے،حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کرکے قوم کو مشکل میں ڈال دیا۔
انہوں نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کا مقابلہ مئوثر لاک ڈاؤن سے کیا جاسکتا ہے، جان بچانے والی ادویات بھارت سے درآمد کرکے کروڑوں روپے کمائے گئے، یہ محب وطن ہیں، بھارت کشمیر میں خون کا کھیل کھیل رہاہے، جبکہ یہ بھارت سے تجارت کررہے ہیں ادویات امپورٹ کی جا رہی ہیں۔کون سی وزارت میں ادویات امپورٹ کی گئیں، جس وزارت صحت کے وزیر ، وزیراعظم عمران خان ہیں۔

اگر وزیراعظم کو یہ نہیں پتا کہ ان کی آنکھ کے نیچے ان کی وزارت میں کیا ہورہا ہے؟تو ایسا نااہل وزیراعظم جس کو اتنا پتا ہی نہ ہو، پھر یہ ملک کی تباہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایٹمی سلطنت ہے۔ ہمیں ایسا وزیراعظم نہیں چاہیے جس کو معلوم ہی نہیں اس کی حکومت میں کیا ہورہا ہے۔حکومت کورونا مسئلے پر قوم کو جس مشکل میں ڈال چکی ہے، اب حکومت کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے، بلکہ اب جو کرنا ہے وہ کورونا نے کرنا ہے، اب ہم مل کر دعا کرتے ہیں کہ کورونا کے دل میں ہی رحم آجائے، کیونکہ پاکستانیوں کے اوپر ایک اناڑی اور نااہل حکومت نافذ ہے، اس لیے میں ان کا کم سے کم نقصان کروں ۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا واحد حل سماجی فاصلہ اور لاک ڈاؤن ہے۔لیکن وزیراعظم کے مطابق آج لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے، لگتا ہے کہ وزیراعظم نے کورونا کی ویکسین دریافت کرلی ہے۔عمران خان کے نزدیک نیب کورونا کی ویکسین ہے۔حکومت نے جو لاک ڈاؤن لگایا اس دوران بھی کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا۔کورونا میں بہتر اقدامات پر آزاد کشمیر اور گلگت حکومتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ن لیگ کے رہنماء خواجہ سعد فیق نے کہا کہ نیب شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو نوٹس بھیجنا سیاسی انتقام ہے۔حمزہ شہباز طویل عرصے سے نیب کی حراست میں ہیں۔حکومت سیاسی انتقام سے وقت ضائع کررہی ہے۔سابق اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب قانون سے متعلق کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، یہ غلط تاثر دے رہے ہیں، کہ 18ویں ترمیم کیلئے مذاکرات ہو رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں نیب کو سرے سے ہی ختم ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ کی توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ پاناما کیس میں نوازشریف کی روزانہ سماعت ہوئی، مانیٹرنگ کیلئے ججز تعینات کیے گئے، لیکن باقی 450 لوگوں کا کیا بنا ہے؟اسی طرح ای اوبی آئی پاکستان کے غریبوں مزدروں کا پیسا ہے ،ای او بی آئی نیب کو تونظر نہیں آتی،یہ 40ارب ای اوبی آئی کا پیسا کھا گئے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس 6سال سے کیس پڑا ہے، یہ پیسا ریکور کرکے جن کا پیسا ہے ، ان کو واپس دیا جائے۔