حکومت کا عوام کو مفت کورونا ویکسین فراہم کرنے کاباضابط اعلان

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کورونا کی ویکسین کی دستیابی سے جلد آگاہ کریں گے اور حکومت کی حاصل کردہ ویکیسن پورے ملک میں مفت فراہم کی جائے گی اسلام آباد میں صوبائی حکومتوں کے نمائندگان اور وزرا کے ساتھ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ روزانہ اڑھائی سے 3 ہزار لوگ اس بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں اور مثبت ٹیسٹ کی مثبت شرح 7 سے 8 فیصد کے درمیان ہے بلکہ کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 19 فیصد کے لگ بھگ رہی ہے.
انہوں نے کہا کہ نہ صرف کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کا اثر بھی ہمارے صحت کے نظام پر نظر آرہا ہے خاص طور پر بڑے اور گنجان آباد شہروں میں زیادہ دباﺅ ہے انہوں نے کہ دباﺅ سے بڑھ کر جو جانی نقصان ہو رہا ہے وہ بھی ہر روز کی اموات سے واضح ہو رہا ہے. ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ اس سے بچنے کے لیے ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر ہیں جن کو اب تک استعمال کرتے آئے ہیں اور لگاتار استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ماسک کا استعمال، 6 فٹ کے قریب فاصلہ، پر ہجوم جگہ نہیں جانا، ہواداری کا خیال رکھنا اور ہاتھوں کو صاف رکھنے سے ہم وبا کو روکنے میں واضح فرق ڈال سکتے ہیں.
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ آج ہماری اہم ملاقات صوبائی وزرا اور صوبائی محکمہ صحت کے نمائندگان سے ہوئی اور انہیں پاکستان کی ویکسین کی حکمت عملی کے خدوخال سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ ویکسین کے حصول کے لیے قومی کوشش جاری ہے اور اس کو کامیاب بنانے میں مددگار صوبائی شعبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے اسی لیے صوبائی وزرا اور صحت کے نمائندگان کو آگاہ کیا گیا.
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت واضح طور پر ممکن بنائے کہ ویکسین پاکستان میں دستیاب ہو، جومحفوظ ہو اور بداثرات سے پاک موثر ہو، اس کو ممکن بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا معاون خصوصی نے کہا کہ ان کوششوں کی بنیاد پر ہم جلد یہ بتانے میں کامیاب ہوں گے کہ پاکستان میں کون سی ویکسین کب دستیاب ہوگی. انہوں نے کہا کہ ویکسین کی نجی سطح پر حصول کے حوالے سے درست معلومات نہیں دی گئی، جب کوئی ویکسین ہمارے قوانین کے مطابق رجسٹر ہوگی تو جو لوگ اس کو خریدنا چاہیں گے تو اس کو ممکن بنایا جائے گا ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت جو ویکسین حاصل کر رہی ہے جس کے لیے 150 لاکھ ڈالر اور اضافی رقم میں بھی اس میں ڈالی جاسکتی ہے وہ مفت فراہم کی جائے گی.
انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبا پر قابو پانے کی ہماری کوششوں میں ویکسین اہم جز ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں تمام احتیاطی تدابیر چھوڑ دی جائیں یا یہ سوچا جائے کہ ویکسین آجائے گی تو ہم اس کو بھول جائیں گے تو ویکسین اپنی جگہ لیکن یہ سب چیزیں اکٹھی چلتی رہیں گی. کرسمس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مسیحی برادری سے اپیل کروں گا کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں جو کسی بھی تہوار میں کی جاتی ہیں اور اس سے متعلق تدابیر جاری کی جاچکی ہیں خیال رہے کہ گزشتہ روز میڈیا پر رپورٹس آئی تھیں کہ وزارت قومی صحت سروسز نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ وہ نجی شعبے کو ان افراد کے لیے کورونا ویکسین کی خریداری کی اجازت دے گی جو اس کے لیے رقم ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں.
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹر افسر (سی ای او)عاصم رﺅف نے کہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہونے جارہا، ابھی اس طرح کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ دنیا بھر میں حکومتیں کورونا ویکسین کے حصول کی کوششیں کر رہی ہیں.