’مستقبل کے امراض کورونا سے بھی بدترین ہوں گے ‘عالمی ادارہ صحت نے خبردار کردیا

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ عالمی وباء کورونا وائرس سنگین ہے لیکن مستقبل کے امراض کورونا سے بھی بدترین ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے شعبہ ایمرجنسیز کے سربراہ مائیکل ریان نے کہا ہے کہ کورونا وباء بہت سنگین تھی جو کہ دنیا بھر میں برق رفتاری سے پھیل گئی اور ہماری زمین کا ہر ایک حصہ اس سے متاثر ہوا ، اگرچہ یہ وائرس بہت خطرناک ہے اور لوگوں کو ہلاک کررہا ہے مگر اس سے ہلاکتوں کی موجودہ شرح دیگر ابھرتے ہوئے امراض کے مقابلے میں کافی کم ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدترین وباء تو ابھی آنا باقی ہے اور ہمیں عالمی سطح پر اس کے تیاری کے لیے سنجیدہ ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مستقبل میں اس سے بھی زیادہ سنگین وبا کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے کیوں کہ کورونا وائرس کے بحران کے لیے سائنسی طور پر بڑی پیشرفت ہوئی ہے، مگر اس سے یاد دہانی ہوتی ہے کہ ہم مستقبل کے وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، چار سو وبا کی بادل چھائے ہیں ایک طرف جہاں ماہرین اس مہلک وبا کی موثر ویکسین تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی ایک اور قسم بھی موجود ہے، انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وائٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ انگلینڈ میں تیزی سے پھیلنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم دریافت ہوئی ہے ، اپنے بیان میں چیف میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم آئی ہے جو بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے اور اس پر ہمیں تیزی سے کام کرنا ہوگا تاکہ یہ زیادہ اموات کا سبب نہ بن سکے ، اعداد و شمار کے مطابق یہ نئی قسم جنوب مشرق میں پھیل رہی ہے جبکہ ایڈوائزری گروپ نے بھی نئی قسم کے تیزی سے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔