پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر میں ٹھہراؤ آ گیا

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر میں ٹھہراؤ آ گیا۔تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر میں ٹھہراؤ آ گیا ہے۔اعداد شمار کے مطابق کورونا کی دوسری لہر میں ٹھہراؤ تعلیمی اداروں کی بندش اور عوامی اجتامات پر پابندی کی وجہ سے آیا۔تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد دوبارہ وبا کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر میں جو ٹھہراؤ آیا ہے اس کا براہ راست تعلق تعلیمی اداروں کی بندش سے ہے۔دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد سے بھی فائدہ ہوا۔شادی ہالز پر پابندی اور ریسٹورانٹس بند کرنے سے بھی اچھے اثرات مرتب ہوئے۔د معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے وفاقی وزیر تعلیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سخت احتیاطی اقدامات اٹھائے جن کا تعلق ہمارے تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے تھا اور جو دیگر ہم نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جیسے بڑے اجتماعات، شادی ہال اور ریسٹورنٹس بند جگہ پر ڈائننگ پر پابندی عائد کی۔
انہوں نے کہا کہ سب سے واضح اثر تعلیمی بند کرنے سے پڑا، یہ تعلیمی ادارے ہمارے ملک کے مستقبل کیلئے بہت اہم حصہ ہیں اور ہم نے بادل نخواستہ ہی انہیں بند کیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ ڈیٹا سے یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ شاید اس وقت ہمیں اس معاملے میں مزید احتیاط اور التوا کرے کی ضرورت پڑے تاکہ تعلیمی ادارے کھولنے سے قبل ہماری دوسری لہر کی شدت میں کمی آ چکی ہو۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ تعلیمی ادارے ادارے کرنے کا اثر پڑا اور دوسری لہر میں کچھ ٹھہراؤ دیکھنے میں آیا۔اس موقع پر وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ہماری حکومت کے پیش نظر اولین چیز یہ ہے کہ ہم نے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ہے اور بچوں کی صحت سے کوئی رسک نہیں لینا اور تفصیلی بحث مباحثے کے بعد یہ فیصلے ہوئے ہیں جو میں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 18جنوری نویں سے 12ویں کی وہ جماعتیں جن کا امتحان ہونا ہے، وہ شروع ہو جائیں گی اور ان جماعتوں کے طالبعلم اپنے اسکول و کالجز میں جائیں گے اور ان کی پڑھائی شروع ہو جائے گی۔انہوںنے کہاکہ 25 جنوری سے پرائمری سے 8ویں تک باقی طالبعلم اسکول آنا شروع کردیں گے جبکہ یکم فروری کو یونیورسٹی، کالجز سمیت ہائر ایجوکیشن کے ادارے کھول دیے جائیں گے۔