امریکی قانون سازوں کا نائب صدر مائیک پنس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو معزول کرنے کا مطالبہ

امریکی دارالحکومت سینیٹ نے پینسلوینیا کے انتخابی نتائج پر کیے گئے اعتراض کو مسترد کر کے صدر ٹرمپ کی ہار پر قانونی مہر لگادی ہے سینیٹ میں ہونے والے ووٹ میں 92 نے اس اعتراض کو مسترد کرنے جبکہ 7نے اس کے حق میں ووٹ دیا سفید فام انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے کیپٹل ہل پر حملے بعد رات گئے کانگرس کا اجلاس شروع ہوا .
سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے راہنماءسینیٹر مچ میکونیل نے مداخلت کرتے ہوئے بحث کا اختتام کیامیکونیل کا کہنا تھاکہ انہیں آج رات مزید کسی الیکشن نتیجے کے خلاف چیلنج کی امید نہیں ہے انتخابی نتائج پر کیے گئے ایک اعتراض پر کسی صرف ایک سینیٹر کے دستخط ملے جبکہ تین ایسے اعتراضات داخل کروائے گئے تھے جن پر سینیٹرز نے دستخط ہی نہیں کیے تھے.
یہ ریاست پینسلوینیا کے انتخابی نتائج کے حوالے سے دستخط شدہ اعتراض ریاست میزوری سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جاش ہولی کی جانب سے جمع کروایا گیا تھا جنہیں صدر ٹرمپ کے انتہائی بااعتماد ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے. ادھر کانگریس کے اراکین اور آئینی ماہرین نے نائب صدر مائیک پنس پر زور دیا ہے کہ وہ25ویں آئینی ترمیم کے تحت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو معزول کردیںادھر امریکی نشریاتی ادارے” سی بی ایس نیوز “ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ کی کابینہ کے اندر ممکنہ طور پر 25ویں ترمیم کو استعمال کرنے کے لیے چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔
یہ ایک ایسی آئینی ترمیم ہے جو یہ کہتی ہے کہ اگر صدر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں ناکام ہیں تو اس عہدے کے لیے دوبارہ سے نامزدگی ہو سکتی ہے اس صورتحال میں کابینہ کے زیادہ تر اراکین اور نائب صدر کو کانگرس کو لکھ کر کہنا ہو گا کہ نائب صدر پینس قائمقام صدر ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہیں.

یاد رہے کہ امریکی آئین کی یہ 25 ترمیم کبھی بھی استعمال میں نہیں لائی گئی اس کی توثیق 1967 میں کی گئی تھی ابھی فی الحال نائب صدر مائیک پینس کے سامنے رسمی طور پر کچھ بھی پیش نہیں کیا گیا کچھ نے تو پہلے ہی پینس سے کہا ہے کہ وہ 25 آئین ترمیم کا استعمال کریں انہوں نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے تشدد پر اکسایا ہے. کانگریس کے جاری اجلاس کی صدارت نائب صدر مائیک پنس اور ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کررہی ہیںجاری سیشن کے دوران صدارتی انتخاب کے نتائج پر رپبلیکنز کے تین اعتراضات نائب صدر مائیک پینس کی جانب سے مسترد کر دیے کیونکہ ان اعتراضات پر قواعد کے مطابق کسی سینیٹر نے دستخط نہیں کیے تھے جس کے بعد سینیٹ کا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ایک چیلنج نومبر میں ریاست جارجیا سے منتخب ہونے والے کانگریس کے رکن جوڈی ہائیس نے دائر کیا تھا جارجیا سے ایک اور نمائندہ مارجری ٹیلر گرین نے مشی گن کے ووٹوں پر اعتراض کیا مگر ناکام رہیں حال ہی میں منتخب ہونے والی کانگریس رکن نے ماضی میں کیو اینون نامی سازشی نظریے کی حمایت کی تھی تیسرا چیلنج الابامہ سے کانگریس کے رکن مو بروکس نے دائر کیا جنہوں نے نیواڈا میں نتائج پر اعتراض کیا تھا.
امریکہ کہ نومنتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لیے سینیٹ اور کانگریس کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جس کی صدارت کانگریس کی سپیکر نینسی پیلوسی اور نائب صدر مائیک پینس کر رہے ہیں اس اجلاس کے دوران الیکٹرول کالج ووٹوں اور انتخابی نتائج کے حوالے سے لگائے گئے اعتراضات کے حوالے سے بحث بھی کی جا رہی ہے اور تمام ریاستوں کی الیکٹرول کالج ووٹوں کی تصدیق کے بعد ہی جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کی جائے گی .
اب سے کچھ دیر قبل ڈی سی پولیس چیف کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اب تک میٹروپولیٹن پولیس نے 52 افراد کو گرفتار کیاہے جن میں سے چار کے پاس بغیر لائسنس کے اسلحہ موجود تھا ان میں سے ایک کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور 47 کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے پولیس کو دو پائپ بم بھی ملے ہیں جن میں سے ایک ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے دفاتر سے جو کیپیٹل ہل کے قریب ہے اور دوسرا رپبلکن نیشنل کمیٹی کے ہیڈکوارٹر کے پاس سے ملا ہے یہ مقامی طور پر تیار کیئے گئے بم ہیں.
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے شہر میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع کر دی ہے یعنی اب یہ ایمرجنسی جو بائیڈن کی حلف برداری تک جاری رہے گی میئر میریئل باﺅزر نے بتایا کہ متعدد افراد شہر میں مسلح گروہ کی صورت میں آئے تھے اور ان کا مقصد یہاں تشدد اور انتشار پھیلانا تھا ان کی جانب سے پتھراﺅ بھی کیا گیا بوتلیں بھی پھینکی گئیں اور اسلحے کا استعمال بھی کیا گیااس فیصلے کے بعد انتظامیہ کو شہر میں اضافی وسائل منگوانے میں مدد ملے گی جس کے ذریعے وہ شہر میں کرفیو کا نفاذ، ایمرجنسی سروسز کا دائرہ وسیع کرنے اور لوگوں تک خوراک کی فراہمی یقینی بنا پائیں گے یہ حکم نامہ 21 جنوری کی دوپہر تین بجے تک نافذ العمل رہے گا یعنی نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے ایک دن بعد تک شہر میں اس وقت میئر کی جانب سے کرفیو نافذ ہے جو مقامی وقت کے مطابق کل شام تک جاری رہے گا تاہم ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ حالات کے مطابق کرفیو میں توسیع کی جاسکتی ہے .
کیپٹل ہل کے اندر اجلاس جاری ہے اور اراکین پارلیمان ریاستوں سے آنے والے الیکٹرول کالج ووٹوں کی توثیق کر رہے ہیں بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب میں 232 کے مقابلے میں 306 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی ووٹوں کی تعداد کے بارے میں ریاست در ریاست پڑھ کر سنایا جاتا ہے اگر اس حوالے سے دونوں یعنی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے کسی رکن کی جانب سے اعتراض اٹھایا جائے تو اراکین اپنے چیمبرز میں جاتے ہیں اور اس موضوع پر دو گھنٹے تک بحث کرتے ہیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیا یہ قابل اعتراض ہے بھی یا نہیں‘ سینیٹ نے ایریزونا کے نتائج کے خلاف اعتراض کو ایک ووٹ کے ذریعے ناکام بنایا دیا ہے جبکہ امید یہی کی جا رہی ہے کہ اگلے ایک گھنٹے میں کانگریس میں بھی کچھ ایسا ہی ہو گا.
یاد رہے کہ ایک ریاست کے الیکٹرول کالج ووٹوں کو کالعدم قرار دینے کے لیے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں اکثریت کو ایسا کرنے کے حق میں ووٹ کرنا ہوتا ہے کیونکہ آج کے حملے کے بعد اکثریت رپبلکنز نے اپنی آرا بدل دی ہیں جبکہ ایوان نمائندگان ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں ہے اس لیے یہ تقریباً ناممکن نظر آتا ہے کہ کسی ریاست کے نتائج کو روکا جائے گا.
ادھروائٹ ہاﺅس کی نائب پریس سیکرٹری سارہ میتھیوز نے کیپیٹل ہل میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل ہے اور ان پالیسیوں پر فخر ہے جنہیں ہم نے نافذ کیا ہے انہوں نے کہاکہ ایک ایسا انسان جس نے کانگریس کے ہالوں میں کام کیا ہو میں بہت زیادہ پریشان ہوں اس سب سے جو میں نے آج دیکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہماری قوم کو پرامن طور پر انتقال اقتدار کی ضرورت ہے.
اس سے قبل صدر ٹرمپ کی اہلیہ کے سٹاف کی سربراہ اور ٹرمپ کی سابق پریس سیکرٹری سٹیفینی گریم مستعفی ہوئیں یہ معلوم نہیں کہ ان کے استعفے کا کیپیٹل ہل حملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیںانہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ٹرمپ کی اہلیہ کی جانب سے بچوں کی مدد کے مشن کی ٹیم کا حصہ رہنے انہیں فخر ہے. دوسری جانب یو ایس کیپیٹل ہسٹاریکل سوسائٹی کے تاریخ دانوں کے مطابق 1812 کی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکی پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بولا گیا ہے اگست 1814 میں برطانوی فوجیوں نے واشنگٹن میں داخل ہونے کے بعد کیپیٹل کی زیرتعمیر عمارت کو آگ لگا دی تھی تاہم بارش کی وجہ سے یہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچ گئی تھی امریکیوں کی جانب سے اس واقعے سے ایک برس قبل کینیڈا میں ایسے ہی واقعے کے ردعمل میں برطانوی فوجیوں نے وائٹ ہاﺅس سمیت دارالحکومت کی کئی اور عمارتوں کو بھی آگ لگائی تھی.
خیال رہے کہ اس وقت تک کینیڈا بطور ملک موجود نہیں تھا بلکہ وہ برطانوی نوآبادیات کا مجموعہ تھا ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے بعد سوسائٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یو ایس کیپیٹل صرف ایک عمارت ہی نہیں یہ امریکی جمہوریت اور ہمارے طرزِ زندگی کا مجسم ثبوت ہے اورہم امریکی قوانین کی پاسداری کرنے والی قوم ہیں اور اقتدار کی پرامن منتقلی ہماری آئینی ریاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے.
ادھرواشنگٹن سے نشر ہونے والے مناظر نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے اور اس حوالے سے دنیا بھر کے حکمران ردِ عمل دے رہے ہیں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ٹویٹ کیا کہ جمہوریت یعنی لوگوں کا اپنے ووٹ کا حق استمعال کرنا ان کی آوازوں کو سنا جائے اور اس کے بعد پر امن انداز میں فیصلہ کیا جائے یہ فیصلہ کسی ہجوم کو کبھی بھی نہیں کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ بہت سارے افراد کی طرح میں بھی واشنگٹن میں پیش آنے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہوں اور جو ہو رہا ہے وہ غلط ہے.
جرمنی کے وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے حامیوں سے کہا کہ جمہوریت کو پامال کرنا بند کرو جمہوریت کے دشمن آج واشنگٹن ڈی سی کے مناظر دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے انہوں نے کہا کہ نفرت آمیز الفاظ پرتشدد رویوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں.