بھارت نے گرفتار چینی فوجی چین کے حوالے کردیا

بھارتی فورسز نے مغربی ہمالیہ میں متنازع سرحد کے پاس سے گرفتار کیے گئے ایک چینی فوجی کو واپس کردیا ہے. غیرملکی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارتی آرمی کے بیان کے مطابق چین کی پیپلز لیبریشن آرمی کے اہلکار کو 8 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا جسے چشول مولڈو کے مقام پر چین کے حوالے کردیا گیا.
خیال رہے کہ بھارتی فورسز نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کی خلاف ورزی پر چینی فوجی کو گرفتار کیا تھاچین کی فوج کے زیر انتظام پیپلز لبریشن آرمی ڈیلی نے کہا تھا کہ یہ سپاہی اندھیرے اور پیچیدہ خطے میں لاپتہ ہوگیا تھا اور اصرار کیا کہ بھارت کو اس کی اطلاع دی گئی ہے.
فوجی جریدے نے مزید کہا تھا کہ بھارت کو دونوں ممالک کے مابین متعلقہ معاہدوں کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے اور لاپتہ فرد کو فوری طور پر چین کے حوالے کرے تاکہ چین اور بھارت کی سرحدی صورتحال میں تیزی مزید بہتری آئے.

اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ جون میں لداخ کی وادی گلوان میں بھارتی اور چینی فورسز کے مابین مسلح جھڑپ میں 20 بھارتی اور متعدد چینی فوجی ہلاک ہوگئے تھے بھارت کی جانب سے جون کے بعد سے اب تک دو چینی فوجیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے. اکتوبر 2020 میں ایک اور چینی فوجی کو اسی علاقے میں بھارتی فورسز نے مختصر دورانیہ کے لیے پکڑا تھا واضح رہے کہ اگست 2020 میں بھارت نے چین کی جانب سے ایل اے سی پر 17 ہزار فوجیوں کے جواب میں ٹینک ریجمنٹس سمیت فوج کی بھاری نفری تعینات کردی تھی.
اس سے قبل متنازع خطے میں ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے لداخ کی وادی گلوان میں 15 جون کو لڑائی کے دوران کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور بھارتی فوجیوں کو پتھروں سے مارا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ ایشیا کی مسلح جوہری طاقتوں کے مابین دہائیوں میں بدترین تصادم تھا. مئی سے اب تک جوہری طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان جاری تناﺅ میں ہزاروں فوجی دستے آمنے سامنے آ چکے ہیں جس پر ماہرین نے انتباہ جاری کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی خطے میں ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے.