فوج مخالف بیان پر کوئی ردِعمل کیوں نہیں دیا گیا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال

آج آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی انتہائی اہم پریس کانفرنس کی جس میں ان سے سوال کیا گیا کہ کچھ عرصہ سے کچھ جماعتوں کی جانب سے فوج مخالف بیان دئیے جا رہے ہیں، اب تک پاک فوج نے اس پر کوئی ردعمل کیوں نہیں دیا گیا ؟ اور کیا ان الزمات پر پاک فوج کے اندر اور شہدا کے خاندانوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے ؟ جس کا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اگر آپ تنقید کی بات کر رہے ہیں ، یا جو الزامات لگائے جاتےہیں تو ان میں کوئی حقیقت نہیں، الحمد اللہ فوج اپنا کام کر رہی ہے،فوج اپنی قربانیاں دے رہی ہے۔
اگر آپ یہ سوال پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ہم ان الزامات پر جواب کیوں نہیں دے رہے تو ایسا کوئی الزام نہیں جو حقیقت پر مبنی ہے۔
ہمشہ اس بات پر جواب دیا جاتا ہے جس میں کوئی حقیقت ہو۔ہم ان چیزوں میں ملوث نہیں ہونا چاہتے اور نہ ہی ہوں گے۔فوج کا جو کام ہے وہ اپنا کام کرتی رہے گی۔کوئی پریشانی کی بات نہیں، ہماری پوری فوج اور شہیدا کی فیملی کا مورال بلند ہے۔

قبل ازیں انہوں نے کہا کہ خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ہمشیہ حقائق کے ذریعے نشاندہی اور مقابلہ بھی کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن سے سیکیورٹی صورتحال مجموعی طور پر بہتر ہوئی۔خودکش حملوں میں 97 فیصد واضح کمی آئی۔ کراچی میں دہشتگردی میں 95 فیصد کمی آئی۔کراچی میں اغوا برائے تاوان میں 98 فیصد کمی آئی ہے۔
دہشگردی میں 2019 کے مقابلے میں 20 فیصد کمی آئی۔ سرحدی علاقے میں دہشتگردی میں 55 فیصد کمی آئی۔ ملک میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی۔کسٹمز کا کردار بھی قابل ستائش ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جاری کشیدگی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد پر بھارت کی اشتعال انگیزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔پاک فوج نے بھارتی خلاف ورزیوں کا ہمیشہ بھرپور جواب دیا ہے۔2019میں بھارت نے سب سے زیادہ ایل او سی پر خلاف وزریاں کیں۔پاکستان نے بھارتی دہشتگردی کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے۔ہمیشہ حائق کے ذریعے بھارتی دہشتگردی کی نشاندہی کی گئی۔ ہم نے آپریشن ردالفساد کے زریعے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا۔