بغداد میں خودکش حملہ 30ہلاک‘100سے زائدزخمی

عراقی دارالحکومت بغداد کے وسط میں واقع کمرشل علاقے میں دو خود کش بم دھماکوں میں30سے زائد افراد ہلاک اور100کے قریب زخمی ہو گئے ہیں عراقی وزارت صحت کے ترجمان نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے. عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ خودکش جیکٹ پہنے ہوئے بمبار نے خود کو بغداد کے قلب میں واقع تیارن اسکوائر میں دھماکے سے اڑا لیا وزارت داخلہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ حملے میں اب تک30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بہت سارے زخمیوں کی حالت نازک ہے سول ڈیفنس چیف میجر جنرل خادم سلمان نے 28 افراد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس حملے کے پیچھے داعش ہو سکتی ہے.
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو الرٹ جاری کرتے ہوئے اہم مقامات پر تعینات کردیا گیا ہے اور مزید حملوں کے خطرے کے پیش نطر اہم راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے. میڈیکل ذرائع نے غیرملکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے ادھر شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے رپورٹ کے مطابق خود کش بمباروں نے تیارن اسکوائر میں واقع استعمال شدہ کپڑوں کی مارکیٹ کو نشانہ بنایا جس میں اس وقت لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے.
کئی سالوں تک جاری رہنے والے فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات کے بعد بغداد میں خود کش دھماکوں کے سلسلے میں نمایاں کمی آئی تھی اور اس طرح کا آخری حملہ جون 2019 میں کیا گیا تھا جنوری 2018 میں پارلیمانی انتخابات سے چند چند ماہ قبل تیارن اسکوائر میں کیے گئے خود کش حملے میں کم از کم 30افراد ہلاک ہو گئے تھے. عراق میں عموماً انتخابات سے قبل قبل پرتشدد واقعات، دھماکوں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے عراق میں اس سال جون میں الیکشن شیڈول ہیں جو احتجاج کے سبب ایک سال پہلے منعقد ہو رہے ہیں البتہ حکام انتخابات کو اکتوبر میں منعقد کرانے کی تیاری کررہے ہیں تاکہ ووٹرز اور نئی جماعتوں کی رجسٹریشن کے لیے مزید وقت مل سکے.
آج ہونے والے دھماکے کی ذمے داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی لیکن عموماً داعش اس طرح کے خود کش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرتی رہی ہے عراق میں تین کی خونریز جدوجہد کے بعد 2017 میں داعش کو شکست دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور ان کے قبضے سے ملک کے ایک تہائی حصے کو چھڑا لیا گیا تھا باضابطہ طور پر خاتمے کے باوجود ملک کے کچھ حصوں میں اب بھی داعش چھوٹے موٹے گروپوں کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے اور وہ سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہتے ہیں.