فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی عوامی سطح پر نہیں ہوسکتی ، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کی طرف سے فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی اوپن کرنے کے بیان پر ردعمل دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی کے اختیارات یا منصب ایک جے آئی ٹی کا ہے ، سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی عوامی سطح پر نہیں ہوسکتی ، کیوں کہ کارروائی عوامی سطح پر کرنے سے کمیٹی کو کام کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ترجمان الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فارن فنڈگ کیس میں سکروٹنی کمیٹی کارروائی کررہی ہے ، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے غیر ضروری تبصروں کا سلسلہ جاری ہے ، یہ ایک اہم اور حساس کیس ہے جس کا میرٹ پر فیصلہ قومی مفاد میں ہے ، اس لیے اپیل ہے کہ سکروٹی کمیٹی کی کارروائی پر غیر ضروری اور بغیر شواہد تبصروں سے گریز کیا جائے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس ٹی وی پر براہ راست دکھانے کا مطالبہ کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں پارٹی سربراہوں کو بٹھا کر سماعت سننی چاہیئے،کیس اٹھانے پر اپوزیشن کا شکرگزار ہوں، جو ممالک انہیں فنڈ کرتے ہیں ان ممالک سے تعلقات کی وجہ سے نام نہیں لے سکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیرستان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت ہونی چاہیے ، چیلنج کرتا ہوں فارن فنڈنگ کیس ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے ، فارن فنڈنگ کیس میں پارٹی سربراہوں کو بٹھا کر سماعت سننی چاہیئے ،چیلنج کرتا ہوں سیاسی فنڈ ریزنگ صرف تحریک انصاف نے کی، اوور سیز پاکستانیوں کے بھیجے گئے ترسیلات زر سے ملک چلتا ہے ، میں نے شوکت خانم کی فنڈنگ سمندرپارپاکستانیوں سے کی ، اپوزیشن جماعتوں کو معلوم ہے اور مجھے بھی پتہ ہے فارن فنڈنگ کیا ، کئی ملک ان جماعتوں کو پیسے دیتے رہتے ہیں ،ان ممالک سے تعلقات کی وجہ سے میں بتا نہیں سکتا۔