وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 95 پیسے اضافہ کردیا

وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 95پیسے اضافہ کردیا،وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ بجلی فی یونٹ قیمت میں 2روپے 18پیسے کا اضافہ بنتا تھا، لیکن کم بوجھ ڈالا جارہا ہے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر200ارب کا بوجھ بڑھے گا،ن لیگ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بجلی مہنگی کرنا پڑرہی ہے۔
وفاقی وزراء اسد عمر ، عمر ایوب اور گوہر تابش مشترکہ پریس کانفرنس کررہے تھے، وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ پچھلی حکومت ہمارے لیے بارودی سرنگیں کھود کرگئی تھی، کیپسٹی پیمنٹ ہمارے لیے ورثے میں چھوڑ کرگئی، یہ استعمال کریں یا نہ کریں ادائیگی کرنی ہی ہوتی ہے، 2019ء تک 227ارب چھوڑ کر گئے، اگر اس حساب سے بجلی کی قیمت بڑھاتے تو2 روپے 61پیسے فی یونٹ بنتا، ہم نے صرف 23پیسے اضافہ کیا، 2روپے 38پیسے کی سبسڈی دی گئی، جو کہ 247ارب روپے بنتے ہیں۔
2013ء کیپسٹی پیمنٹ 185ارب ، 2018ء میں 468ارب اور 2019ء میں 642ارب،2020ء میں 860ارب اور 2023ء تک 1455ارب ہوجائے گی۔یہ بھی بارودی سرنگ ہے جو مسلم لیگ ن کی حکومت نے بدنیتی کے ساتھ کارخانے لگائے، ان کارخانوں سے 45فیصد بجلی درآمد شدہ فیول سے بنتی ہے، اس کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے بجلی کی فی یونٹ قیمت ایک روپے 95پیسے اضافہ کردیا، بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر200ارب کا بوجھ بڑھے گا،ن لیگ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بجلی مہنگی کرنا پڑرہی ہے۔
ہم کورونا کے دوران 473ارب کی سبسڈی فراہم کی ہے، یہ سبسڈی صرف پاورسیکٹر میں دی گئی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہورہی ہے، چند ماہ سے معیشت کے حوالے سے بہترین خبریں آرہی ہیں، ہماری برآمدات بڑی رفتار سے بڑھ رہے ہیں، دسمبر 2020ء میں ہماری برآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 12سال بعد ساڑھے 18فیصد اضافہ ہوا ، ایکسپورٹ گروتھ کے ساتھ تیزی بھی ہے، مجموعی طور پر بڑی صنعتوں کا ہرماہ ادارہ شماریات کی رپورٹ میں دیکھا کہ مینوفیکچرنگ کی صنعت میں اضافہ ہمیں نومبر کے مہینے میں نظر آیا ہے۔