چین سے کورونا وائرس کی ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

چین سے کورونا وائرس کی ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی جسے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وصول کیا نور خان ایئربیس پر چین کی جانب سے عطیہ کی گئی کورونا وائرس ویکسین کی پہلی کھیپ آج (یکم فروری) کی سہ پہر کو پہنچی. اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور چینی سفیر نونگ رونگ کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے اہم عہدیدار موجود تھے نور خان ایئر بیس پر ویکسین کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ آج چینی حکومت کی جانب سے عطیہ کی گئی ویکسین پاکستان پہنچ گئی ہے.
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان دنیا میں پہلا ملک ہے جسے چینی حکومت کی جانب سے عطیہ کی گئی ویکسین ملی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے اور ہر کوئی اس بات میں مجھ سے اتفاق کرے گا کہ یہ ویکسین صرف پاکستان کی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہ ہمارے بھائی چارے کا عملی مظہر ہے. چینی سفیر نے کہا کہ صدر شی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ چین نے اپنے وعدے پر پورا اترتے ہوئے ایک ماہ کے اندر ہی دنیا بھر کو ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی ہے اور اس سلسلے میں معاونت کے لیے اپنی بہترین کاوشوں کا مظاہرہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان دیرینہ دوست کی حیثیت سے ہماری پہلی ترجیح ہے اور میں سینوفارم ویکسین کے ایمرجنسی بنیادوں پر استعمال کی منظوری اور اس سلسلے میں تعاون کرنے پر ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں، ہمیں ا±مید ہے کہ اس دوطرفہ تعاون سے مزید لوگ استفادہ کریں گے چینی سفیر نونگ رونگ نے کہا کہ اس سال پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ ہے، ہمیں اس دوستی پر فخر ہے جو پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے چینی سفیر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دوطرفہ تعلقات میں مستقل پیشرفت ہو رہی ہے اور چین پاکستان کو اس وبا سے پاک کرنے کی مہم، معیشت کی بحالی اور سماجی ترقی میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہے.
چینی سفیر کے خطاب کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان سے باضابطہ طور پر کورونا وائرس کی ویکسین وصول کی اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی لازوال دوستی کا عملی مظاہرہ کیا ہے. انہوں نے کہا کہ اس سال کی ہماری دوستی اور تعلقات اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ ہمارے سفارتی تعلقات کو اس سال 7 دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں اور ہمارا واضح منصوبہ ہے کہ ہم اس سال کو شایان شان طریقے سے منائیں گے اور اپنے تعلقات اور دوستی کے نئے باب رقم کریں گے.
انہوں نے کہا کہ میں حکومت پاکستان، وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان کے عوام کی طرف سے چین کی حکومت خصوصاً صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے کہا کہ جس دن یہ ویکسین تیار ہو گی ہم اس کو مفاد عامہ اور لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے استعمال کریں گے، اس کا عملی مظاہرہ انہوں نے کردیا ہے اور اس کا آغاز پاکستان سے کیا ہے، یہ عملی ثبوت پاکستان چین دوستی کا مظہر ہے.
اس موقع پر انہوں نے اسٹیٹ قونصلر وزیر خارجہ وونگ گی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وونگ گی سے میری اس ویکسین کے حصول کے لیے مستقل بات چیت چل رہی تھی، دسمبر میں بھی ان سے درخواست کی تھی اور 21 جنوری کو جب ان سے دوبارہ بات ہوئی تو انہوں نے خوشخبری سنائی کہ چین، پاکستان کو یہ 5 لاکھ خوراک بطور تحفہ پیش کرتا ہے کیونکہ پاکستان سے ہماری دوستی اس نوعیت کی ہے.
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس دن سے ہم نے وزیر اعظم کی سربراہی میں کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے کا آغاز کیا، ہم نے ایک حکمت عملی اپنائی، این سی او سی اور وزارت صحت نے اپنا کام شروع کیا تو چین ہمارے شانہ بشانہ کھڑا رہا اور وہ جس طرح ہماری مدد کرتے رہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے. انہوں نے کہا کہ پیپلز لبریشن آرمی اور چین کے ڈاکٹرز نے یہاں تشریف لا کر ہمارے ڈاکٹرز کی رہنمائی کی اور اپنے تجربات ہم سے شیئر کیے اور جس طرح سے ہماری ٹریننگ کی وہ قابل ذکر ہے اور میں اس کا بھی اعتراف کرنا چاہوں گا وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ چین اور پاکستان نے مل کر ایک ویکسین کے تجربات کا آغاز کیا تھا، یہاں ٹرائل ہو رہے تھے جو مکمل ہو چکے ہیں، کینسائنو کے نام سے ویکسین، چین اور پاکستان مل کر آگے بڑھ رہے ہیں اور اس کی ابتدائی رپورٹس حوصلہ افزا ہیں، اگر اس میں ہمیں کامیابی ملتی ہے تو یہ پاکستان کے لوگوں اور فرنٹ لائن ڈاکٹرز کے لیے حوصلہ افزا خبر ہو گی.
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین سے کووڈ۔
19 ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی ہے پیر کو وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق معاون خصوصی نے کووڈ۔19 ویکسین فراہم کرنے میں چین کے عزم کی تعریف کی اور کہا کہ چین پہلا ملک ہے جس نے پاکستان کو کووڈ۔ 19 ویکسین تحفے میں دی ہے. انہوں نے کہا کہ چین نے 5 لاکھ خوراکیں عطیہ کیں ہیں، سب سے پہلے فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین دی جائے گی، ویکسین کے لیے 4 لاکھ سے زیادہ ہیلتھ ورکرز نے درخواست دی ہے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ویکسین کو ذخیرہ اور مختلف وفاقی اکائیوں خصوصاً سندھ اور بلوچستان کو فضائی راستوں سے فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے کی دونوں کمپنیاں پاکستان میں ویکسین لائیں گی لیکن نجی شعبے کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈی آر پی) کے پاس اپنی ویکسین رجسٹر کروانی ہوگی معاون خصوصی نے کہا کہ ڈریپ نجی کمپنیوں کی جانب سے ویکسین کے معیار اور قیمت کو کنٹرول کرے گا اور اس ویکسین کی فراہمی پاکستانیوں کے لیے بلا معاوضہ ہو گی.
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کا خصوصی طیارہ چین سے ویکیسن کی پہلی کھیپ لے کر پاکستان پہنچ چکا ہے اور ویکسین کو اسلام آباد میں مرکزی اسٹوریج سینٹر میں منتقل کیا جائے گا تمام ہیلتھ گائیڈ لائنز کو مدنظر رکھتے ہوئے ویکسین وفاقی اکائیوں کو فراہم کی جائے گی اور ویکسین کی منتقلی کے پلان کو این سی او سی حتمی شکل دے چکا ہے درجہ حرارت کو برقرار اور وقت بچانے کے لیے سندھ اور بلوچستان اور گلگت بلتستان کو ویکسین طیاروں پر فراہم کی جائے گی.
ویکیسن کی پہلی کھیپ مکمل طور پر کووڈ 19 کے خلاف جنگ لڑنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کو لگائی جائے گی اور این سی او سی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی طے کردہ ترجیحات کے مطابق ویکیسن کی پہلی خوراک ہیلتھ ورکرز کو لگائی جا رہی ہے ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور ویکسینیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکانزم سے کنٹرول کیا جائے گا.
ویکسینیشن کے پہلے مرحلے کے لیے پنجاب میں 189، سندھ میں 14 خیبرپختونخوا میں 280، بلوچستان میں 44 اور اسلام آباد میں 14 ویکسینیشن سینٹر قائم کیے جائیں گے اس کے علاوہ آزاد کشمیر میں 25 اور گلگت بلتستان میں 16 مراکز کے ذریعے ویکسینیشن کی جائے گی این سی او سی پوری ویکسینیشن مہم کے دوران نرو سینٹر کے طور پر کام کرے گا اور ویکسینیشن کے لیے صوبے، اضلاع اور تحصیل کی سطح پر بھی کور سینٹرز قائم کئے گئے ہیں.
ویکسینیشن کا پورا عمل نیشنل امیونائزیشن مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ کام کرے گا اور ویکسینیشن کا عمل ملک بھر میں 3 فروری سے شروع ہو گاپہلا مرحلہ تمام شہری بمعہ فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز ایس ایم ایس کے ذریعے 1166پر اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر بھیجیں گے یا رجسٹریشن کے لیے نیشنل امیونائزیشن منیجمنٹ سسٹم کی ویب سائٹ کا استعمال کریں گے.
دوسرا مرحلے میں تصدیق کے بعد موجودہ پتے کی بنیاد پر نامزد آڈلٹ ویکسین سینٹر اور پن کوڈ شہریوں کو بذریعہ ایس ایم ایس بھیجا جائے گا‘تیسرے مرحلے میں اگر نامزد اے وی سی شہریوں کی موجودہ تحصیل سے باہر ہے تو شہری ایس ایم ایس موصول ہونے کے 5 دن کے اندر این آئی ایم ایس کی ویب پورٹل یا 1166 ہیلپ لائن پر کال کرکے اپنا اے وی سی تبدیل کرسکتا ہے.
چوتھے مرحلے میں مقررہ ویکسین سینٹر پر ویکسین کی دستیابی پر اپائنمنٹ کی تاریخ سے قبل شہریوں کو ایس ایم ایس بھیجا جائے گا پانچویں مرحلے میں کامیاب رجسٹریشن کے بعد شہری اپنا شناختی کارڈ اور موصول شدہ پن کوڈ (لازمی) کے ساتھ مقررہ تاریخ اور وقت پر اے وی سی آئیں گے چھٹے مرحلے میں اے وی سی میں ویکسین اسٹاف شناختی کارڈ اور پن کوڈ کی تصدیق کرے گا‘ساتویں مرحلے میں تصدیق کے بعد شہریوں کو ویکسین لگائی جائے گی اور انتظامیہ این آئی ایم ایس میں تفصیلات کا اندراج کرے گی اور شہری کو ایس ایم ایس کے ذریعے تصدیقی پیغام بھیجا جائے گا، مزید یہ ویکسین کے بعد 30 منٹ تک شہری کو نگرانی کے لیے وہاں موجود رہنا ہوگا آٹھویں مرحلے میں اس طریقہ کار سے وفاقی، صوبائی اور ضلعی محکمہ صحت کیلئے ریئل ٹائم ڈیش بوڈ خود کار طریقے سے تیار ہوگا.