یوسف رضاگیلانی کی جیت: ثابت ہوگیاحکومت کی صرف پالیساں ہی نہیں حکمت عملی بھی ناقص ہے. ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“

پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی 37 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل ختم ہوچکا ہے اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی وفاقی دارالحکومت کی سیٹ پر کامیاب ہوگئے ہیں. حکمران جماعت کے لیے یہ بڑا اپ سیٹ ہے کیونکہ ان کے امیدوار اور موجودہ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی شکست ہوئی ہے یاد رہے کہ حفیظ شیخ کے مقابلے میں یوسف رضا گیلانی کو متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم کی حمایت حاصل تھی یوسف رضا گیلانی کو 169 ووٹ جبکہ حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے.
ایڈیٹر ”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی صرف پالیساں ہی نہیں حکمت عملی بھی انتہائی ناقص ہے تاہم توقع ہے کہ حکمران جماعت یوسف رضاگیلانی کی جیت کو چیلنج کرئے گی اس کے علاوہ مستردہ شدہ ووٹوں پر بھی نظرثانی کی درخواست کی جائے گی. انہوں نے کہا کہ آج صبح تک وفاقی وزراءحفیظ شیخ کی جیت کے 120فیصد امکانات ظاہر کررہے تھے مگر انہیں حکمران اتحاد کے180ووٹوں میں سے 164ووٹ ملے ہیں جبکہ اپوزیشن اتحاد کے پاس 160ووٹ تھے اور یوسف رضا گیلانی نے169ووٹ حاصل کیئے ہیں اگر6مسترد شدہ ووٹوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ووٹ شعوری طور پر ضائع کیئے گئے یا حقیقت میں یہ ووٹ غلطی سے ضائع ہوئے ہیں اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے کون سے 9اراکین ہیں جنہوں نے پی ڈی ایم کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے .
انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف اسے قومی اسمبلی کا وزیراعظم پر عدم اعتماد قراردے گی اور یہ خارج ازامکان نہیں کہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئے انہوں نے کہا کہ حکومتی جماعت کی پریشانی ظاہر کررہی تھی کہ کہیں کوئی مسئلہ ضرور ہے . انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں وزیراعظم کی کچن کیبنٹ متحرک رہی جبکہ جماعت کے ناراض اراکین اور اتحادیوںکو منانے کے لیے اقدامات نہیں کیئے گئے میاں ندیم نے کہا کہ اتنے بڑے اپ سیٹ سے عوامی سطح پرتحریک انصاف اور عمران خان کو ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا .
ایڈیٹراردوپوائنٹ کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن میں نتائج کو چیلنج کرکے تحریک انصاف یہ سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو اب ڈیمج کنٹرول کرنا مشکل ہوگا انہوں نے کہا کہ عوامی حلقوں میں تاریخی مہنگائی اور ملکی پالیسیوں پر عالمی مالیاتی اداروں کے حد سے زیادہ اثرورسوخ سے عام شہری حکومت سے نالاں ہیں اس لیے عوامی حلقوں میں حزب اختلاف کے موقف کو اب اور زیادہ پذیرائی ملے گی .
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے علاوہ ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی سینیٹ انتخابات میں اپ سیٹ کر سکتے ہیں وہ1980 کی دہائی سے عملی سیاست میں فعال ہیںجس کے باعث ان کے اکثر سیاسی جماعتوں میں تعلقات ہیں جبکہ وہ وزیر اعظم، سپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر جیسے اہم عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں . یوسف رضا گیلانی اچھے مزاج کے دوست پرور انسان ہیں انہوں نے کبھی کوئی دشمنی نہیں بنائی اور یہی ان کا پلس پوائنٹ ہے سیاسی اثر رسوخ کے علاوہ جنوبی پنجاب کے معروف سید خاندان سے ہونے کی وجہ سے بھی ان کی عزت اور احترام کیا جاتا ہے .
میاں محمد ندیم نے کہا کہ اتنے بڑے اپ سیٹ میں یوسف رضا گیلانی کی اہم سیاسی خاندانوں میں رشتہ داریوں کا عمل دخل بھی ہوسکتا ہے موجودہ پیر آف پگارو پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کے خالہ زاد بھائی ہونے کے علاوہ ان کے چھوٹے بھائی پیر صدرالدین شاہ کے سمدھی بھی ہیں . پیر آف پگارو سندھ سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے روحِ رواں ہیں اور جی ڈی اے کے قومی اسمبلی میں تین ایم این ایز ہیں اسی طرح تحریک انصاف کے ناراض مگر اہم رہنما جہانگیر خان ترین کی بیگم گیلانی کی ماموں زاد بہن ہیں جبکہ بہاولپور سے تحریک انصاف ہی کے رکن قومی اسمبلی مخدوم سمیع الحسن گیلانی (اوچ شریف والے) بھی ان کے عزیز ہیں .
راولپنڈی کے مشہور پیر آف گولڑہ شریف کے بھی عزیز ہیں، جبکہ اٹک کے پیر آف مکھڈ، جو سابق صدر ایوب خان کے بھی پیر تھے ان سے بھی ان کی رشتہ داری ہے جبکہ صدر ایوب خان کے پوتے عمر ایوب خان اس وقت وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں وفاقی وزیر ہیں . انہوں نے کہا کہ رشتہ داریوں کے علاوہ ایک اہم وجہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پارلیمان اوراراکین اسمبلی کے بارے میں انہوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو سابق وزیراعظم نوازشریف کا تھا ان کے پارلیمان اور اراکین اسمبلی سے رابطے انتہائی کم تھے اور ان تمام اہم امور کو انہوں نے اپنی کچن کیبنٹ پر چھوڑ رکھا تھا .