چین میں غیرملکی سرمایہ کاری حجم بڑھ کر39.9 فیصد تک پہنچ گیا

چین میں غیرملکی سرمایہ کاری بڑھ کر39.9 فیصد ہوگئی ہے، چین میں غیرملکی سرمایہ کاری میں یہ اضافہ پہلی سہ ماہی میں ریکارڈ کیا گیا، امریکا کے ساتھ چینی برآمدات میں62.7 فیصد اور درآمدات میں 57.9 فیصد اضافہ ہوا، فریقین کیلئے اقتصادی تجارتی تعاون کے فروغ کیلئے سازگارماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔
تفصیلات کے مطابق چین کی وزارت تجارت کے پندرہ اپریل کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں سال پہلی سہ ماہی میں چین میں حقیقی غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 302.47 بلین یوان بنی جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں انتالیس اعشاریہ نو فیصد زیادہ ہے۔ ملک میں غیرملکی سرمائے سے قائم نئے کاروباری اداروں کی تعداد 10263 رہی جو پچھلے سال کی اسی مدت سے سینتالیس اعشاریہ آٹھ فیصد زیا دہ ہے۔
دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک، آسیان اور یورپی یونین کی جانب سے سرمایہ کاری میں بالترتیب 58.2 فیصد، 60 فیصد اور 7.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔ وزارت تجارت کے ترجمان گاؤ فنگ نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں چین امریکہ تجارت تیزی سے بڑھی جس میں چین کی امریکہ کو برآمدات میں62.7 فیصد جبکہ امریکہ سے چین میں درآمدات میں 57.9 فیصد اضافہ ہوا۔ ترجمان نے کہا کہ فریقین کو باہمی احترام اور مساوات کی بنیاد پر اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیئے۔
مزید برآں چینی کسٹمز کے اعداد وشمار میں کہا گیا کہ گزشتہ ماہ چین کی برآمدات میں ایک برس قبل مارچ کے مہینے کے مقابلے میں 30.6 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں درآمدات میں بھی 38.1 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی وجہ کورونا کی وبا کے سبب دنیا بھر میں چینی مصنوعات کی طلب میں اضافہ بنی۔ یہ مسلسل نواں ماہ تھا جب چینی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں چینی برآمدات 49 فیصد بڑھی ہیں جبکہ درآمدات میں بھی 28 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔