وفاقی کابینہ میں رد و بدل ، شوکت ترین کو وزارت خزانہ و ریونیو کا قلمدان سونپ دیا گیا

حکومت نے وفاقی کابینہ میں رد و بدل کرتے ہوئے شوکت ترین کو وزارت خزانہ و ریونیو کا قلمدان سونپ دیا۔ تفصیلات کے مطابق حماد اظہر کو وفاقی وزیر برائے توانائی بنادیا گیا ہے جب کہ عمر ایوب خان سے توانائی کی وزارت کا قلمدان واپس لے کر انہیں وزیر برائے اقتصادی امور تعینات کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سینیٹر شبلی فراز سے اطلاعات کی وزارت واپس لے کر انہیں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان سونپا گیا ہے ، اس کے علاوہ خسرو بختیار کو وزیر صنعت و پیداوار کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور فواد چوہدری کو باقاعدہ طور پر وزرارت اطلاعات سونپ دی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف حکومت کے نئے وزیر خزانہ اور معروف بینکر شوکت ترین نے عہدہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے معاشی اہداف بھی بتادیے ، ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کافی روز پہلے ہی کہا تھا کہ آپ کو ہم ایک ذمہ داری سونپیں گے ، جس کا اشارہ وہ دے چکے ہیں ، تاہم یہ ایک بہت چیلنجنگ ٹاسک ہوگا ، جو کہ آسان کام نہیں ہے لیکن اس حوالے سے ہماری اسٹریٹیجی سیدھی سادی ہے کہ اب ہم نے گروتھ کی طرف جانا ہے ، معیشت کا جی ڈی پی گروتھ 6,7 فیصد تک لے کر جانا ہے ، اس کے لیے جو بھی ہمیں کرنا پڑا ہم کریں گے۔
شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف نے جو کہا تھا وہ کافی حد تک حکومت نے کردیا ہے ، ہمیں ہاؤسنگ کے شعبے کو آگے لے کر چلنا ہوگا ، زراعت ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ، جس کی وجہ سے غزائی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، اس کے علاوہ ہمیں ایکسپورٹ پر توجہ دینی ہوگی ، کیوں کہ اس وقت ملک میں امپورٹ زیادہ اور ایکسپورٹ کم ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت بہت اوپر جاچکی ہے اس حوالے سے بھی ٹارگٹیڈ سبسڈیز دی جائیں گی ، ایف بی آر میں بھی اصلاحات کی جائیں گی کیوں کہ ریونیو صرف دس فیصد تک ہے ، اصلاحات کی مدد سے اگلے پانچ سال میں رینیو کو بیس فیصد تک لے کر جانا ہے ، یہ ایک بہت چیلنجنگ ٹاسک ہوگا ، جو کہ آسان کام نہیں ہے ، اس کے علاوہ سی پیک کے حوالے سے بھی کافی کام کرنے کی ضررورت ہے۔