کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر تُرکی میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا

المی وبا کورونا وائرس کے وار پوری دنیا میں جاری ہیں۔ کورونا وائرس کی تیسری لہر نے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کورونا کیسز میں روزانہ کی بنیاد پر غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے، کورونا وائرس کی نئی لہر نے ہر عمر کے افراد کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے۔ کورونا کیسز میں نمایاں اضافے کے بعد تُرکی نے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تُرک صدر رجب طیب اردوان نے کابینہ کی تین گھنٹے طویل میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا۔ کابینہ اجلاس میں ملک بھر میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ملک بھر میں لاک ڈاؤن سمیت کئی سخت فیصلے کیے گئے۔
اس حوالے سے تُرک صدر طیب اردوان نے کہا کہ ترکی میں 29 اپریل سے 17 مئی تک (20 روز) کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تُرک صدر نے اعلان کیا کہ 20 روز کے لیے تمام کاروباری ادارے اور مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں گی،البتہ وزارت داخلہ کے ‏سرکلر میں آنےوالے ادارے پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے اور صرف اشیائے ضرورت کے کاروبار کی اجازت ہوگی۔ بین الصوبائی آمدورفت حکومت کی اجازت سے مشروط ہوگی، اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی صرف محدود حد تک افراد بیٹھ سکیں گے۔
لاک ڈاؤن کے دوران تمام افراد گھروں میں رہنے کے پابند ہیں تاہم صرف علاج یا دوائی لینے کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی، اس کے علاوہ ایسے افراد جن کا تعلق میڈیسن، ایمرجنسی سروس اور اشیائے خورونوش کے محکموں سے ہے پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر کورونا کیسز کو کم کر کے 5 ہزار تک کرنا ہے اگر ‏کورونا تعداد کم نہ کی گئی تو سیاحت اور تجارت سمیت ہر شعبے میں نتائج کا سامنا کرنا پڑے ‏گا۔ خیال رہے کہ تُرک وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تُرکی میں کورونا کے 37 ہزار 312 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ کورونا کے باعث 353 اموات ہوئیں جو اپریل کے مقابلے میں کم ہیں لیکن ابھی بھی دنیا میں چوتھے نمبر پر ہیں۔