چوہدری برادران 21 سال سے جاری قانونی جنگ جیت گئے

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس، چوہدری برادران 21 سال سے جاری قانونی جنگ جیت گئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت نے چوہدری برادران کے خلاف دو ریفرنسز بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ عدالت نے چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی، چودھری مونس الٰہی، چودھری شافع حسین سمیت فیملی کے بارہ ارکین کے خلاف انکوائری بند کرنے کی منظوری دی ۔
نیب لاہور نے چودھری شجاعت حسین، چودھری سالک حسین، چودھری شافع حسین کے خلاف انکوائری بند کرنے کیلئے احتساب عدالت سے رجوع کررکھا تھا۔ نیب نے چودھری پرویز الٰہی، اہلیہ پرویز الٰہی، مونس الہی، راسخ الٰہی اور 2 خواتین کے خلاف انکوائری بند کرنے کا ریفرنس عدالت میں دائر کیا تھا۔
نیب پراسکیوٹر اسد اللہ خان کے مطابق چودھری شجاعت حسین اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری کر رہا تھا۔

دوران تفتیش چودھری شجاعت حسین اور انکے صاحبزادوں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے شواہد موصول نہ ہوئے۔نیب پراسکیوٹر کے مطابق چودھری برادران کے خلاف تین مختلف انکوائریاں نیب میں زیر التواء تھیں۔ چودھری شجاعت حسین پر بطور وفاقی وزیر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کا الزام تھا۔ چودھری پرویز الٰہی پر بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کا الزام تھانیب کے مطابق چودھری پرویز الٰہی پر بطور لوکل گورنمنٹ منسٹر غیر قانونی تعیناتیوں کا الزام تھا۔
نیب لاہور نے تینوں انکوائریاں بند کرنے کیلئے احتساب عدالت میں تین ریفرنس دائر کیے تھےچودھری شجاعت، چودھری پرویز سمیت دیگر کے خلاف 12 اپریل 2000 میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔ 11 مارچ 2015 کو انکوائریاں نیب لاہور کو منتقل کی گئی تھیں۔چودھری برادران کے خلاف 19 جنوری 2021 کو چیئرمین نیب نے انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دی تھی۔آخر کار چوہدری برادران ایک لمبے عرصے سے جاری قانونی جنگ جیت گئے ہیں ۔