کورونا کی تیسری لہر، وائرس کی ایک نئی شکل میں علامات کے بغیر موت ہوجاتی ہے

ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر بہت زیادہ خطرناک ہے، وائرس کی ایک نئی شکل میں علامات کے بغیر موت ہوجاتی ہے۔لیاقت شاہوانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ صوبے میں کورونا کے کیسز اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔کورونا کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے، صورتحال دیکھتے ہوئے ہوئے مجبوری کے تحت لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وائرس کی نئی شکل میں علامات کے بغیر موت ہو جاتی ہے۔لیاقت شاہوانی نے کہا کہ حالات مزید خراب ہوئے تو مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے حکومت کا ساتھ دیا ،کچھ لوگ اپنی زندگی سے زیادہ شاپنگ کو اہمیت دیتے ہیں۔
ترجمان حکومت بلوچستان نے کہا کہ یکم مئی کو بلوچستان میں کورونا کے 22 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے ،سختی کرنے کے بعد کیسز میں کمی آئی، حکومت اور این سی او سی ماہرین کی تجاویز پر عمل کر رہے ہیں۔

لیاقت شاہوانی نے شہریوں کو عید سادگی کے ساتھ منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شہری عید نماز کے اجتماعات میں احتیاط برتیں۔لاک ڈاؤن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 16 مئی تک لاک ڈاؤن برقرار رہے گا، شہریوں سے اپیل ہے کہ گھروں میں رہیں۔دوسری جانب ک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دور ان کورونا سے مزید 78افراد جاں بحق اور 3447نئے کیسز رپورٹ ہوئے،کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں ملک 29 ویں پر آگیا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 3 ہزار 447 کیسز سامنے آئے ہیں، مزید 78 افراد اس موذی وباء کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے، جبکہ مثبت کیسز آنے کی شرح 9 اعشاریہ 12 فیصد ہو گئی۔