شہبازشریف نے مشکوک ٹرانزیکشن کا ملبہ سلیمان شہباز پرڈال دیا

مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے مشکوک ٹرانزیکشنز کا سارا ملبہ سلیمان شہباز پر ڈال دیا۔ اس حوالے سے صحافی و تجزیہ کار نعیم اشرف بٹ نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ايف آئی اے) کو دیے گئے کانفیڈنشل جواب میں کہا کہ حمزہ شہباز نے 25 ارب کی مشکوک ٹرانزیکشن کا ملبہ سلیمان شہباز پر ڈال دیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ آپ رمضان شوگرمل کے سی ای او ہیں ، ایف آئی اے نے دوران تفتیش شہباز شریف سے پوچھا کہ رمضان شوگر مل کے ملازمین کے اکاؤنٹس میں اربوں روپی کیسے آئے؟ جس پرمسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے جواب دیا کہ ”میں مانتا ہوں کہ قانونی طور پر چیف ایگزیکٹیو کو مالی معاملات کا علم ہونا چاہئیے تاہم ميں صرف کاغذوں ميں چیف ایگزیکٹیو ہوں، عملی طور پر ميراچھوٹا بھائی بزنس دیکھتا ہے۔
” ایف آئی اے نے سوال کیا کہ رضوان قریشی نے آپ کی ایماء پر رقم لے کر رمضان شوگرمل کے ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی؟، جس پر لیگی رہنما شہباز شریف نے جواب دیا کہ رضوان قریشی کو جانتا ہوں لیکن اسے رقم وصولی اور ٹرانسفر کا اختیار نہیں دیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے شہباز شریف سے مزید کہا کہ ہنڈی کے ذریعے یہ غیرقانونی رقم باہر بھیجی گئی اور اس کا ذریعہ آپ کی شوگر مل بنی، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ کسی ہنڈی حوالہ کونہیں جانتا، آپ کو تفتیش میں دھیلے کی کرپشن نہیں ملے گی۔
یاد رہے کہ سال 2019ء میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ رمضان شوگر ملز کے لیے 10 کلو میٹر طویل نالہ تیار کیا گیا۔ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نامزد ملزمان پر اختیارات کے ناجائز استعمال سے مبینہ طور پر 21 کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔