اسلامی ممالک کی سربراہی تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس جاری

اسلامی ممالک کی سربراہی تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس جاری ہے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر طلب کیا گیا جس کی میزبانی سعودی عرب کر رہا ہے. عرب نشریاتی ادارے کے مطابق اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اخلاقیات کے خلاف اقدام قرار دیا اس سے پہلے سلامتی کونسل کا ہونے والا اجلاس امریکہ نے ملتوی کرا دیا تھا اور اسرائیل نے اس سے فائدہ اٹھا کر غزہ پر مزید بمباری کی اور ان حملوں سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی.
دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی محصور پٹی کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 140 ہوچکی ہے فلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیلی بمباری سے جاں بحق افراد کی تعداد 140 ہوگئی ہے، جن میں 39 بچے بھی شامل ہیں دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ 2 بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے.
فلسطین کے طبی حکام کا کہنا تھا کہ شمالی غزہ پر فضائی حملے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے مقامی افراد نے کہا کہ اسرائیلی بحریہ نے بحیرہ روم سے شیلز فائر کیے تاہم کوئی بھی محصور پٹی پر نہیں لگا فلسطینی وزارت مذہبی امور نے کہا کہ اسرائیلی جہازوں کی بمباری سے مسجد تباہ ہوگئی، ملٹری ترجمان کا کہنا تھا کہ آرمی رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے. فلسطین کے طبی حکام کا کہنا تھا کہ غزہ میں پیر سے اب تک 34 بچوں اور 21 خواتین سمیت 136 افراد جاں بحق اور 950 زخمی ہو چکے ہیں دوسری جانب حماس کا اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اسرائیل کے دو اہم جنوبی شہروں میں غزہ سے راکٹ حملوں کے انتباہ کے لیے سائرن بجائے گئے مصر سیز فائر کی کوششوں میں خطے کی قیادت کر رہا ہے مصری سیکیورٹی کے دو ذرائع نے کہا کہ قاہرہ مزید مذاکرات سے قبل دونوں فریقین سے سیز فائر پر زور دے رہا ہے مصر کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ مصر اور اردن کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں محاذ آرائی کو ختم کرنے اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں ”اشتعال انگیزی“ کو روکنے کے لیے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا.
خیال رہے کہ رمضان المبارک کے آغاز سے ہی مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں اسرائیلیوں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جبکہ اس دوران دنیا کے 3 بڑے مذاہب کے لیے انتہائی مقدس شہر میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر پاکستان نے شدید مذمت بھی کی ہے. مقبوضہ بیت المقدس میں جمعہ (7 مئی) سے جاری پرتشدد کارروائیاں سال 2017 کے بعد بدترین ہیں جس میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرنے کی طویل عرصے سے جاری کوششوں نے مزید کشیدگی پیدا کی یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے، اس کیس میں فلسطینیوں کی جانب سے دائر اپیل پر پیر (10 مئی) کو سماعت ہونی تھی جسے وزارت انصاف نے کشیدگی کے باعث موخر کردیا تھا.
اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر حالیہ حملے 7 مئی کی شب سے جاری ہیں جب فلسطینی شہری مسجد الاقصیٰ میں رمضان المبارک کے آخری جمعے کی عبادات میں مصروف تھے اور اسرائیلی فورسز کے حملے میں 205 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے جس کے اگلے روز 8 مئی کو مسجدالاقصیٰ میں دوبارہ عبادت کی گئی لیکن فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی فورسز نے پرتشدد کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں مزید 121 فلسطینی زخمی ہوئے، ان میں سے اکثر پر ربڑ کی گولیاں اور گرنیڈز برسائے گئے تھے جبکہ اسرائیلی فورسز کے مطابق ان کے 17 اہلکار زخمی ہوئے.
بعدازاں 9 مئی کو بھی بیت المقدس میں مسجد الاقصٰی کے قریب ایک مرتبہ پھر اسرائیلی فورسز کی پ±رتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوئے 10 مئی کی صبح اسرائیلی فورسز نے ایک مرتبہ پھر مسجد الاقصیٰ کے قریب پرتشدد کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں مزید 395 فلسطینی زخمی ہوئے تھے جن میں سے 200 سے زائد کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا.
اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں 300 فلسطینی شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد حماس نے اسرائیل میں درجنوں راکٹس فائر کیے تھے جس میں ایک بیرج بھی شامل تھا جس نے بیت المقدس سے کہیں دور فضائی حملوں کے سائرن بند کردیے تھے اسرائیل نے راکٹ حملوں کو جواز بنا کر جنگی طیاروں سے غزہ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں حماس کے کمانڈر سمیت 25 افراد جاں بحق ہوگئے تھے.
بعد ازاں 11 مئی کی شب بھی اسرائیلی فضائیہ نے ایک مرتبہ پھر راکٹ حملوں کو جواز بنا کر غزہ میں بمباری کی جس کے نتیجے میں 13 بچوں سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 43 تک پہنچ گئی، یہ راکٹ حملے بھی حماس کی جانب سے کیے گئے تھے جس میں 5 اسرائیلیوں کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا. اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے عید الفطر کے روز بھی غزہ میں بلند و بالا عمارتوں اور دیگر مقامات پر مزید فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں پیر سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 103 تک پہنچ گئی جس میں 24 بچے بھی شامل ہیں مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ کی وجہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال وسیع پیمانے پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے.