ترک صدر طیب اردگان فلسطینوں پر مظالم رکوانے کے لیے متحرک ہو گئے

ترک صدر رجب طیب اردگان نے فلسطینوں پر مظالم رکوانے کے لیے پوپ فرانسس سے مدد مانگ لی۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے پوپ فرانسس سے فون پر رابطہ کیا ہے جس میں غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ دفتر ترک صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ترک صدر نے پوپ فرانسس سے فلسطینیوں کے قتل عام رکوانے میں مدد پر زور دیا۔
ترک صدر نے پوپ فرانسس سے فلسطینیوں کے قتل عام پر اسرائیل پر پابندیاں لگانے پر بھی زور دیا۔ترک صدر نے کہاکہ جب تک عالمی برادری اسرائیل پر پابندیاں نہیں لگاتی فلسطینی قتل عام کا نشانہ بنے رہیں گے۔ترک صدر کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی برادری اسرائیل کو سزا نہیں دیتی اس وقت صرف فلسطینیوں کا قتل عام جاری رہے گا، انہوں نے عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس سے کہا کہ مسیحی دنیا اور عالمی برادری کو متحرک کرنے کے لیے پوپ کے پیغامات اہم ہیں۔
قبل ازیں ترک صدر نے کہا ہے کہ جس طرح شامی سرحد پر دہشت گردوں کا راستہ روکا اسی طرح مسجد الاقصی کی جانب بڑھتے ہو ہاتھوں کو توڑ دیں گے۔ ترک میڈیا کے مطابق صدر طیب اردگان نے اپنی جماعت انصاف و ترقی پارٹی کے نمائندوں سے ویڈیو کانفرنس خطاب میں کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے بھی مقدس مقام ہے جہاں اسرائیل نامی دہشت گرد ریاست نیانسانیت سوزی کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔
ترک صدر نے پارٹی رہنماوں کو بتایا کہ اسرائیلی جارحیت پر میں نے بعض عالمی رہنماوں سے رابطہ کیا اور سب نے فلسطین کے حق میں ہمارے موقف کی مکمل تائید کی ہے۔ اگر فلسطین میں اسرائیلی ظلم و جبر کے خلاف پوری دنیا خاموش بھی ہو جائے تب بھی ہم اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت پر خاموش رہنے والوں کا انجام عبرت ناک ہوگا اسرائیل کی جانب سے بہائے جانے والے خون پر خاموش رہنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ان پر بھی یہ وقت آ سکتا ہے۔
صدر طیب اردوان نے کہا کہ جس طرح شامی سرحد کے قریب دہشت گردوں کا راستہ روکا اسی طرح مسجد الاقصی کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھوں کو بھی توڑ دیں گے۔ اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھانا ہر ایک حساس دل انسان پر فرض ہے۔ اقوام عالم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بلا امتیاز اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہو جائیں۔